رسائی کے لنکس

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی فریدہ بی بی کہتی ہیں کہ اس منصوبے میں شامل ہوتے وقت کچھ لوگوں نے ان کی حوصلہ شکنی بھی کی لیکن انھوں نے اس کی پرواہ نہیں کی

پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف خواتین پر مشتمل ہے اور نسبتاً قدامت پسند معاشرے میں غیر مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے مسائل کے بارے میں آئے روز خبریں بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ لیکن ایک غیر سرکاری تنظیم نے خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک منصوبہ مکمل کیا ہے۔

اس منصوبے میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو کار اور وین چلانے کی باقاعدہ تربیت دینے کے علاوہ اس روزگار سے وابستہ مختلف امور سے بھی آگاہی فراہم کی گئی۔

غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے اس منصوبے کی روح رواں شبینہ ایاز نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اس ایک سالہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں گھروں میں کام کرنے والی دس خواتین کا انتخاب کیا گیا اور پھر انھیں تین طرح کی تربیت فراہم کی گئی۔

’’ ان خواتین کو تین قسم کی ٹریننگ کروائی گئی۔ ان کو بنیادی تعلیم دی گئی، سیلف ڈیفنس کی تربیت دی گئی پھر ڈرائیونگ کی تربیت ہوئی ان کی اور اب یہ تمام مکمل ڈرائیور ہیں۔‘‘

اس منصوبے کے تحت تربیت حاصل کرنے والی مسرت بتول کہتی ہیں کہ وہ گزشتہ سال کی نسبت بہت خوش ہیں کیونکہ ان کے بقول اب ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے جس میں کامیابی کے لیے وہ پرعزم ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی فریدہ بی بی کہتی ہیں کہ اس منصوبے میں شامل ہوتے وقت کچھ لوگوں نے ان کی حوصلہ شکنی بھی کی لیکن انھوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔
’’لوگ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم اپنا ضمیر مانتے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں گی، میری ماں نے ساتھ دیا میرا اور وہ کہتی تھیں کہ یہ بھی ہنر ہے تو اس میں بھی ہم کامیاب ہوں گے انشاء اللہ۔‘‘

عورت فاؤنڈیشن کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بعض اداروں سے ان خواتین کی ملازمت کے لیے بھی بات کی جا چکی ہے اور ان میں سے بعض خواتین نے مختلف محکموں میں ملازمت کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز بھی دیے ہیں۔

شبینہ ایاز کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین کی ترقی کے لیے سماجی رویوں میں تبدیلی بہت ضروری ہے اور یہ منصوبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

حال ہی میں حکومت نے بھی نوجوانوں بشمول خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے منصوبے کو اعلان کیا ہے جس کا بنیادی مقصد بے روزگاری کا خاتمہ اور ذرائع آمدن کو بڑھانا ہے۔
XS
SM
MD
LG