رسائی کے لنکس

"خواتین کے مسائل کے حل کے لیے حکومت غیر سنجیدہ"

  • حسن سید

شہناز وزیرعلی

شہناز وزیرعلی

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے اس تنقید کو مسترد کیا ہے کہ خواتین کے حقوق کی حامی کہلانے والی اس جماعت نے اپنے دو سالہ اقتدار کے دوران ملک کی نصف آبادی کی ترقی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے ۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے اور ان کے حقوق کے لیے اس سیاسی عزم کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی توقع تھی۔

تاہم وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں تعلیم کے لیے وزیر اعظم کی مشیر شہناز وزیر علی نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون سازی سمیت کئی دوسرے قوانین بنائے اور کئی آئندہ متعارف کرائے جارہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بجٹ اجلاس کے بعد پارلیمان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف بھی ایک قانون لا کر اس کو قابل دست اندازی جرم قرار دیا جارہا ہے۔

حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن انسانی حقوق کے کارکن اس پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ حکومت نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت اگرچہ فوجی آمر ضیا الحق کا نام آئین سے خارج کیا لیکن ان کے دور میں لائے گئے متنازع حدود آرڈیننس کو ختم نہیں کیاگیا جسے ناقدین خواتین کے خلاف امتیازی قانون قرار دیتے ہیں ۔

تاہم شہناز وزیر علی کے مطابق اٹھارویں ترمیم میں اس آرڈیننس کو ختم کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنے سے پاکستان کے پورے قانونی ڈھانچے میں تبدیلی درکار ہوتی جس کے باعث یہ طے پایا کہ حدود آرڈیننس کے حوالے سے علیحدہ قانون سازی کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG