رسائی کے لنکس

پاکستان کی خواتین رگبی ٹیم کی ایشیائی مقابلے میں پہلی بار شرکت


فائل فوٹو

مہرو نے کینیڈا سے تعلیم حاصل کی ہے جہاں انہوں نے رگبی کے کھیل میں حصہ لینا شروع کیا اور وہ یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے میں کھیل اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایک سال قبل پاکستان میں بننے والی خواتین کی رگبی ٹیم اختتام ہفتہ لاؤس میں ہونے والے خواتین کی 'رگبی سیون ' کے ایشائی مقابلے میں شاید ایک ہی میچ میں کامیابی حاصل کر سکی تاہم ایک بین الاقوامی مقابلے میں پاکستانی خواتین کی شرکت کو ایک خواب کی تعبیر قرار دیا جارہا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" سے بات کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑی مہرو خان نے کہا کہ "ہر ایک کے لیے یہ ایک بہت ہی بڑی بات ہے کہ خواتین رگبی کھیل رہے ہیں۔"

" پہلی بات یہ ہے کہ خواتین کا رگبی کھیلنا ایک بڑی بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں ایک پلیٹ فارم مل رہا ہے جہاں ہم کھیل کر اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں۔"

بیس کروڑ آبادی کے ملک میں جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ خواتین ملک کی آبادی کا نصف ہیں صرف مردوں کی کرکٹ ٹیم کو ہی جانا جاتا ہے۔

گزشتہ سال جب پاکستان نے خواتین کی رگبی ٹیم تشکیل دینے کی کوشش کی تو رگبی کے کھیل سے وابستہ عہدیداروں نے اسکول کے اساتذہ اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جس کا ایک اچھا ردعمل دیکھنے میں آیا۔

کھلاڑی فائزہ محمود مرزا نے کہا کہ "رگبی جیسے کھیل میں شامل ہونا یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک معمول کی با ت نہیں ہے۔ ہم اس لیے یہاں ہیں کیونکہ میرے خیال میں ہم ایک تبدیلی لارہے ہیں۔ ہم دوسری لڑکیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی۔"

سات ٹیموں کے اس مقابلے میں پاکستان، نیپال کے بعد چھٹے نمبر پر رہا جس میں مقابلے کی فاتح ٹیم جنوبی کوریا کے علاوہ بھارت، ملائیشیا، فلپائن اور لاؤس نے بھی شرکت کی۔

تین سال قبل ورلڈ رگبی کی طرف سے"گیٹ ان ٹو رگبی (رگبی میں شمولیت اختیار کریں) پروگرام شروع کیے جانے کے بعد سے پاکستان رگبی یونین نے50 ہزار سے زائد کھلاڑیوں کو تربیت فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک تہائی تعداد خواتین کی ہے۔

پاکستان کی خواتین رگبی ٹیم کے کوچ شکیل احمد نے کہا کہ "ہم پاکستان میں خواتین میں رگبی کے کھیل کے فروغ کے متمنی ہیں۔ ہم نےخواتین کی ٹیموں کے لئے مختلف محکموں کے ساتھ کنٹریکٹ کر رکھے ہیں۔۔۔ اور اسکولوں کے ساتھ بھی ہمارے کنٹریکٹ ہیں۔ اس کی وجہ سے 2019ء تک 10ہزار سے زیادہ لڑکیوں کو رگبی کھیلنے کے تربیت دیں گے۔ "

کئی کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ اب بھی پاکستان میں لڑکیوں کے لیے کھیلوں میں حصہ لینے کی راہ میں سماجی مشکلات حائل ہیں جن میں خاندان کی طرف سے حوصلہ افزائی کا نا ہونا اور خواتین کے لیے کھیل کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے مالی معاونت کا نا ہونا بھی ایک وجہ ہے۔

مہرو نے کینیڈا سے تعلیم حاصل کی ہے جہاں انہوں نے رگبی کے کھیل میں حصہ لینا شروع کیا اور وہ یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے میں کھیل اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

"میں امید کرتی ہوں کہ خواتین میری مثال سامنے رکھتے ہوئے یہ سوچ سکتی ہیں کہ اگر وہ (مہرو) یہ کر سکتی ہے تو میں بھی ایسا کرسکتی ہوں۔"

انھوں نے کہا کہ "میں واپس جاکر لاہور میں لڑکیوں کے لیے ایک کلب بناؤں گی۔ میں ان کے گھروں میں جاؤں گی اور انہیں رگبی کھیلنے کے لئے کہوں گی کیونکہ میں یہ نہیں چاہتی کہ وہ یہ محسوس کریں کہ وہ ہم سے یا لڑکوں یا کسی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ وہ آئیں اور اس میں (رگبی کے کھیل) میں شامل ہوں اور اپنا شوق پورا کریں۔"

XS
SM
MD
LG