رسائی کے لنکس

منشیات کے خلاف مربوط کوششوں اور شعور اجاگر کرنے پر زور


نشے کے عادی افراد کے علاج اور اس عادت سے چھٹکارے کے لیے معاونت بہت ضروری ہے۔

نشے کے عادی افراد کے علاج اور اس عادت سے چھٹکارے کے لیے معاونت بہت ضروری ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 64 لاکھ افراد مختلف قسم کے نشے کے عادی ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ بھی دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ دنیا کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے لیکن انسداد منشیات کے لیے عالمی برادری کو بھی مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

جمعرات کو انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں اس ضمن میں مربوط اور مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سرحد پر نگرانی کے سخت نظام کے ذریعے منشیات کی نقل و حمل پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر منشیات کے خاتمے کے لیے کام کررہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنی عالمی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی میثاق کے تحت منشیات کے خاتمے کے لیے کوششیں کررہا ہے اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 64 لاکھ افراد مختلف قسم کے نشے کے عادی ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ بھی دیکھا جارہا ہے۔

انسداد منشیات کے سرکاری ادارے کے عہدیدار کرنل اشتیاق احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان منشیات کی اسمگلنگ کا ایک بڑا روٹ ہے اور یہاں 90 فیصد منشیات افغانستان سے آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی فورس کی موثر کارروائیوں کی بدولت حالیہ برسوں میں منشیات کی بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کو ناکام بنایا جاچکا ہے۔

"2013ء میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے ریکارڈ کامیابی حاصل کرتے ہوئے 250 ٹن منشیات ضبط کیں جن کی بین الاقوامی منڈی میں مالیت 690 ملین ڈالر بنتی ہے۔ رواں سال اب تک 78 ٹن منشیات جن کی مالیت 337 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے ضبط کیں۔"

کرنل اشتیاق کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی 2600 کلومیٹر طویل مشکل سرحد کی نگرانی اور منشیات کے اسمگلروں پر کڑی نظر رکھنا ایک چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے ان کے اہلکار مستعدی سے مصروف عمل ہیں۔

پاکستان میں نشے کے عادت سے چھٹکارے اور اس سے بچاؤ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی عہدیدار کرن مشتاق کہتی ہیں کہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ آگاہی اجاگر کرنے سے منشیات کے استعمال میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

"علاج تو آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ ہم احتیاطی تدابیر پر کام کر رہے ہیں جس میں سماجی سطح پر آگاہی کا پروگرام ہے۔ اسکول کی ایک پوری مہم ہے جس میں اساتذہ کی تربیت ہے، طلبا کے لیے آگاہی پروگرام ہے تو یہ جو پروگرامز ہیں یہ بہت ٹھوس پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ اگر ہم کسی انسان کو پہلے سے بتا دیں کہ اس چیز کے یہ نقصانات ہیں تو اس کی طرف وہ پھر نہیں جائے گا۔"

اقوام متحدہ کی طرف سے بھی اس دن کی مناسبت سے جاری بیان میں منشیات کے عادی افراد کے علاج اور نشے کے استعمال سے پیدا ہونے والی خرابیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔

بیان کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال دو لاکھ افراد منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ نشے کے عادی افراد کے علاج اور اس عادت سے چھٹکارے کے لیے ان کی معاونت کی جائے۔

XS
SM
MD
LG