رسائی کے لنکس

محفوظ انتقال خون کے لیے سرکاری منصوبہ


محفوظ انتقال خون کے لیے سرکاری منصوبہ

محفوظ انتقال خون کے لیے سرکاری منصوبہ

محفوظ انتقال خون کے لیے سرکاری منصوبہ

محفوظ انتقال خون کے لیے سرکاری منصوبہ

پاکستان میں حالیہ برسوں میں ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی ایڈز جیسی بیماریوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ماہرین کے مطابق لوگوں میں غیر محفوظ خون کا انتقال ہے کیوں کہ ملک بھر میں قائم اکثر بلڈ بنک ضروری احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ عطیہ خون کے رضاکاروں کے عالمی دن کے موقع پر وزرات صحت کے حکام نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ملک میں خون کے عطیات جمع کرنے والے بلڈ بنکوں کی تو درست تعداد کے بارے میں حکومت کے پاس اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی اس حوالے سے کوئی باقاعدہ سروے کیا گیا ہے۔

اس صور ت حال کے تناظر میں حکومت نے وزرات صحت کے ایک عہدیدار ڈاکٹر حسن ظہیر کا کہنا ہے حکومت نے محفوظ خون کی فراہمی کے لیے ایک ادارے کے قیام کی منظور ی دی ہے۔

تاہم پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے بلڈ بنک کی ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر عاصمہ پرویز چیمہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نیشنل ایڈز کنڑول پروگرام کے تحت چند سال پہلے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں450 سرکاری جب کہ 2500 سے زاہد غیر سرکاری بلڈ بنک قائم تھے لیکن ڈاکٹرعاصمہ کے بقول نجی سطح پر قائم بلڈ بینکوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

دریں اثنا عطیہ خون کے عالمی دن کے موقع پروزرات صحت نے پیرکے روز سے عطیہ خون کی ایک ہفتہ طویل مہم کا آغاز کیا ہے جو 21 جون تک جاری رہے گی۔ وزرات صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی نئی ہیلتھ پالیسی میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ تمام ضروری ٹیسٹوں اور خون کی مکمل جانچ کے بعد ہی انتقال خون کیا جائے ۔

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی عہدیدار ڈاکٹر عاصمہ پرویز چیمہ کا کہنا ہے کہ ملک میں رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور اُن کے بقو ل ایمرجنسی کی صورت حال میں مریض کے لواحقین ہنگامی طور پر خون کا بندوبست کرتے ہیں ۔ اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ رضاکارانہ طورپر خون کے عطیات کے حصول اور محفوظ انتقال خون کے بارے میں ملک گیر آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG