رسائی کے لنکس

سابق سینیٹر اور انسانی حقوق کے ایک کارکن افراسیاب خٹک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جبری گمشدگی کو ایک جرم قرار دینے کی ضرورت ہے۔

جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں کی طرف سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس پیچیدہ مسئلے کو حل کیا جائے۔

جب کہ حکومت سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اس ضمن میں عالمی میثاق پر بھی دستخط کرے۔

اس دن کی مناسبت سے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق یعنی ’ایچ آر سی پی‘ اور عالمی کمیشن برائے ماہرین قانون (آئی سی جے) کا اجلاس بھی ہوا جس میں بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، پاکستان اور سری لنکا سے وکلاء اور کارکنوں نے شرکت کی۔

اس اجلاس کے بعد ’ایچ آر سی پی‘ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیاء میں وسیع پیمانے پر ہونے والی جبری گمشدگیوں پر صرف اس صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے کہ خطے کی حکومتیں انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کو فوری طور پر جرم قرار دیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں جبری گمشدگی کے مبینہ متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

’ایچ آر سی پی‘ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں جبری گمشدگی حالیہ برسوں میں ایک ملک گیر مسئلہ بن چکا ہے۔ تنظیم کے مطابق اگرچہ ایسے واقعات زیادہ تر بلوچستان، وفاق اور صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ میں سامنے آئے ہیں تاہم اب سندھ میں بھی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

منگل کو انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ اس مظاہرے میں شریک سابق سینیٹر اور انسانی حقوق کے ایک کارکن افراسیاب خٹک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جبری گمشدگی کو ایک جرم قرار دینے کی ضرورت ہے۔

’’پاکستان میں تو بڑے پیمانے پر یہ مسئلہ پایا جاتا ہے۔۔۔ ابتدا میں تو یہ دلیل دی جاتی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف موثر قوانین موجود نہیں ہیں۔۔۔۔ اب بیسیوں قوانین ہمارے سامنے ہیں لیکن اُس کے باوجود لوگ گم ہو رہے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں بین الاقوامی میثاق پر دستخط کرنے چاہیئں اور اپنے قوانین بنانے چاہیئں۔ جو غائب شدگان ہیں اُن کو نکالنا چاہیئے اور اس کو جرم قرار دینا چاہیئے جو لوگ اس کے مرتکب قرار پائیں اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے۔‘‘

اُدھر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کے ہوتے ہوئے حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

’’پاکستان میں ایک آزاد عدلیہ موجود ہے۔ ایک بہت بڑا آزاد اور متحرک میڈیا موجود ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ پاکستان میں آپ کسی چیز کو چھپا کر رکھ سکتے ہیں یا آپ کسی چیز کو قالین کے نیچے دفن کر سکتے ہیں۔ جو بھی شکایات ہیں وہ منظر عام پر آتی ہیں۔۔۔۔ اس کے بارے میں دو تین مختلف وجوہات ہیں۔کچھ لوگ ایسی تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہو گئے جن کی وجہ سے وہ اپنے گھروں سے چلے جاتے ہیں، گھر والوں کو ان کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان تنظیموں کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔۔۔ اور ان کے گھر والوں کو یہ شکایات ہو جاتی ہے (کہ وہ اداروں کی تحویل میں ہیں) لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی نا کسی تنظیم کے ساتھ وابستہ تھے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور ان کے گھر والے انہیں پاکستان میں تلاش کرتے ہیں۔‘‘

تاہم پرویز رشید کا کہنا تھا کہ جب بھی شواہد کے ساتھ جبری گمشدگی کی شکایات سامنے آتی ہیں تو حکومت اُن کا نوٹس لیتی ہے۔

’’ایسی شکایت ہمیں ملتی ہے جس میں مکمل شواہد موجود ہوتے ہیں تو ان معاملات کا بہت سنجیدگی سے نوٹس لیا جاتا ہے اور ہماری عدالتیں اس میں بہت سرگرم کردار ادا کرتی ہیں ۔۔۔۔ ہم اپنی پوری کوشش بھی کرتے ہیں کہ کوئی بھی ماورائے عدالت یا قانون سے ماورا طریقے سے پاکستان میں کسی بھی شہری کو اس کے حقوق سے محروم نا کیا جا سکے۔‘‘

پاکستان میں جبری گمشدگی کا معاملہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے علاوہ پارلیمان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی سطحوں پر بھی زیر بحث رہا ہے۔ اکثر لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی گمشدگی کا الزام انٹیلی جنس ایجنسیوں پر عائد کرتے ہیں، تاہم حکومت اور انٹیلی جنس حکام جبری گمشدگیوں میں کسی طرح ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG