رسائی کے لنکس

یوم مزدور کے موقع پر صدر اور وزیراعظم نے اپنے الگ الگ پیغامات میں محنت کشوں کے حالات زندگی بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

دنیا کے مختلف ملکوں کی طرح جمعرات کو پاکستان میں بھی یوم مزدور منایا گیا جس میں مختلف مزدور یونینز اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے ریلیوں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

محنت کشوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ فی زمانہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مشکل معاشی حالات میں مزدوروں کے لیے حالات مزید کٹھن ہوگئے ہیں اور ان کے فلاح و بہبود کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان ورکرز ویلفیئر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ظہور اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں اس بارے میں بنائے گئے قوانین پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہو رہا اور اسی وجہ سے یہ طبقہ سرکاری اصلاحات اور اقدامات سے پوری طرح بہرور نہیں ہو پاتا۔

"لیبر قوانین ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا یہ جو سوشل سیفٹی نیٹ ورک سے متعلق ہیں یہ کہیں کم ازکم پچاس افراد والے اداروں پر لاگو ہوتا تو کہیں پر ان کی تعداد مختلف ہے تو صرف پانچ فیصد لوگ ہی ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔"

پاکستان میں ایک بڑی تعداد ایسے محنت کشوں کی بھی ہے جو کسی یونین یا تنظیم سے وابستہ نہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور گھریلو ملازمین بھی شامل ہیں۔

ظہور اعوان کے مطابق ایسے افراد کو پہلے آپس میں مل کر اپنی اپنی سطح پر کوئی ضابطہ طے کرنا چاہیئے تاکہ ان کے حقوق کا استحصال نہ ہو سکے۔

یوم مزدور کے موقع پر صدر اور وزیراعظم نے اپنے الگ الگ پیغامات میں محنت کشوں کے حالات زندگی بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

صدر ممنون حسین کا کہنا ہے کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور وہ محنت کشوں کے لیے مساوی حقوق اور انصاف کے عزم پر بھی قائم ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی حکومت محنت کشوں کے سماجی اور معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے کیونکہ ان کے بقول یہ لوگ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG