رسائی کے لنکس

ملک کی تاریخ میں ایسا بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ کوئی سیاستدان تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوا ہو۔

پاکستان میں 2013ء کا آغاز ہی تبدیلی کے نعرے سے ہوا جب سیاسی جماعتوں کے یہ بیانات سامنے آئے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب جمہوری حکومت کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے پر اب عوام کو مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔

سلامتی کے خدشات اور کئی قیاس آرائیوں کے باوجود بالآخر مارچ میں نئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور یہ مرحلہ بھی 11 مئی کو مکمل ہوا۔

مبصرین حتیٰ کہ سیاسی جماعتوں کے بہت سے رہنماؤں کا بھی ماننا تھا کہ 11 مئی کے عام انتخابات میں شاید کوئی ایک جماعت واضح اکثریت حاصل نا کر سکے لیکن نتائج ان پیشگوئیوں کے برعکس نکلے اور مسلم لیگ (ن) کو مرکز میں واضح اکثریت مل گئی۔

ملک کی تاریخ میں ایسا بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ کوئی سیاستدان تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوا ہو۔



11 مئی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد 64 سالہ نواز شریف تقریباً تیرہ سال آٹھ ماہ بعد پارلیمانی سیاست میں واپس آئے اور 342 اراکین کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کی لگ بھگ دو تہائی اکثریت یعنی 244 منتخب قانون سازوں نے ووٹ دے کر اُنھیں تیسری مرتبہ وزارت عظمٰی کے منصب پر بٹھا دیا۔

انتخابات پر کئی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات بھی لگے لیکن تمام ہی جماعتوں نے نتائج کو قبول کر لیا۔

لیکن دھاندلیوں کے الزامات کے باعث چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

پھر آٹھ ستمبر کو ایک اور تبدیلی آئی جب پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ سالہ مدت مکمل کرنے والے منتخب صدر آصف علی زرداری سے یہ منصب ممنون حسین کو منتقل ہوا۔

وفاقی دارالحکومت کی بڑی سرکاری درسگاہ قائداعظم یونیورسٹی کے ڈاکٹر ظفر جسپال کہتے ہیں کہ ملک میں پرامن انتقال اقتدار سے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔

تجزیہ کار ماریہ سلطان کہتی ہیں کہ خدشات کے باوجود اقتدار کی پرامن منتقلی پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لیے اُمید کی ایک کرن ہے۔

ملک میں اس سیاسی تبدیلی کی خاص بات یہ تھی کہ سکبدوش ہونے والے وزیر اعظم اور صدر نے نئی منتخب قیادت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی اور خوش اسلوبی سے اقتدار کی منتقلی کا عمل مکمل ہوا۔



2013ء میں تبدیلی کا سفر صرف وزیراعظم اور صدر کی تبدیلی تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ یہ سال ملک میں فوج کے سربراہ اور چیف جسٹس کی تبدیلی کا بھی سال تھا۔

چھ سال تک ملک کے طاقتور ترین ادارے کی سربراہی کرنے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 29 نومبر کو کمان فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف کو سونپ دی۔

اور پھر نو دسمبر کا دن آیا جب افتخار محمد چودھری اپنی مدت ملازمت کے اختتام پر بطور چیف جسٹس سبکدوش ہو گئے اور تصدق حسین جیلانی نے یہ منصب سنھبالا۔
XS
SM
MD
LG