رسائی کے لنکس

تازہ ترین مطالبہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی طرف سے سامنے آیا جنہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس متعلق ایک قرارداد بھی ایوان میں پیش کی۔

انٹرنیٹ پر وڈیو شیئرنگ کی معروف ویب سائیٹ یوٹیوب تک پاکستان میں رسائی پر پابندی کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے یہ قدغن ہٹائے جانے کے مطالبات کے باوجود تاحال کوئی تسلی بخش اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔

تازہ ترین مطالبہ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی طرف سے سامنے آیا جنہوں نے منگل کو ہونے والے اجلاس میں اس متعلق ایک قرارداد بھی ایوان میں پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دیگر "غیر روایتی و غیر قانونی" ذرائع سے یوٹیوب تک رسائی ممکن ہے لہذا انٹرنیٹ کے عام صارفین کے لیے اس پابندی کا کوئی جواز موجود نہیں۔

اس قرارداد پر ایوان میں موجود حکومتی ارکان کی طرف سے یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ پابندی ختم کیے جانے سے قبل اس کے نتائج پر غور و خوض نہایت ضروری ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیرمملکت شیخ آفتاب اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ حزب مخالف کی رکن فوری طور پر اس پابندی کے خاتمے پر زور دے رہی تھیں جو کہ سر دست ممکن نہیں۔

’’ہم بھی کہتے ہیں کہ پابندی ہٹنی چاہیے تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ ۔ ۔ ہمارا موقف ہے کہ اس میں جو باقی چیزیں ہیں ان کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ایسا دوبارہ نہ ہو کہ پھر کوئی (توہین آمیز) چیز ہو جائے۔ ابھی بیٹھ کر اس پر بات چیت کی ضرورت ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر انوشہ رحمٰن ان دنوں بیرون ملک دورے پر ہیں اور ان کی وطن واپسی پر شازیہ مری کے ساتھ اس ضمن میں بات چیت کے بعد کوئی لائحہ عمل سامنے آسکے گا۔

17 ستمبر 2012ء میں پیپلز پارٹی کی دور حکومت میں یوٹیوب تک رسائی پر پابندی ملک گیر مظاہروں کے بعد لگائی گئی تھی جو کہ اس ویب سائیٹ پر پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز فلم کے چند مناظر جاری ہونے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیے گئے۔

ان مظاہروں میں کم ازکم 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں املاک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا تھا۔

پیپلز پارٹی کے ہی دور حکومت کے آخری مہینے میں اس وقت کے وزیر دفاع نوید قمر نے بھی یوٹیوب جلد بحال کرنے کا عندیہ دیا لیکن اس بیان کو بھی ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔

دسمبر 2012ء میں محض دو گھنٹوں کے لیے یوٹیوب تک رسائی بحال کی گئی لیکن اس ویب سائیٹ پر توہین آمیز مواد کی بدستور موجودگی کے بعد سائیٹ پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی۔

گزشتہ ماہ ہی وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید بھی یہ کہہ چکے تھے کہ توہین آمیز یا قابل اعتراض مواد تک رسائی کو روکنے کے لیے سافٹ ویئر کی تیاری کے بعد اب یوٹیوب تک رسائی جلد بحال کر دی جائے گی۔

دریں اثنا منگل کو ہی ایوان میں منظور کی گئی ایک قرار داد میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ مدارس میں دی جانے والی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور سردار یوسف نے ایوان کو بتایا کہ حکومت مدارس کی تنظیموں سے رابطے میں ہے اور اصلاحات پر مشاورت جاری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ لگ بھگ آٹھ ہزار مدارس کے نصاب میں پہلے ہی جدید علوم سے متعلق مضامین شامل ہیں اور اس ضمن میں ایک ’’ریگولیٹری‘‘ ادارے کے ممکنہ قیام پر بھی مشاورت جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG