رسائی کے لنکس

ذکی الرحمٰن لکھوی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تصدیق کی کہ اُن کے موکل کو جمعہ کو رہا کر دیا گیا لیکن وہ اس سے آگاہ نہیں ہیں کہ ذکی الرحمٰن اس وقت کہاں ہیں۔

پاکستان کی جیل میں قید ممبئی حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز ذکی الرحمٰن لکھوی کو جمعہ کو رہا کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی طرف سے ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی کے حکم کو معطل کر دیا تھا۔

عدالت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ حکومت ذکی لکھوی کی نظری بندی سے متعلق ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکی، جس کے بعد دس دس لاکھ مالیت کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر ذکی الرحمٰن لکھوی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تصدیق کی کہ اُن کے موکل کو جمعہ کو رہا کر دیا گیا لیکن وہ اس سے آگاہ نہیں ہیں کہ ذکی الرحمٰن اس وقت کہاں ہیں۔

رضوان عباسی کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جب بھی عدالت بلائے گی ذکی الرحمٰن پیش ہوں گے۔

’’جو عدالت پوچھے گی وہ اُس کے پابند ہیں، ویسے بھی بندہ عدالت کا پابند ہوتا ہے۔۔۔۔ ویسے بھی اُنھوں نے آئندہ بدھ کو ایک عدالت میں پیش ہونا ہے، لیکن یہ مجھے پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں پر ہیں۔‘‘

ذکی الرحمن لکھوی کو ممبئی میں ہوئے دہشت گرد حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں 2009ء میں دیگر چھ افراد سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

گزشتہ دسمبر میں ایک عدالت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کو ضمانت پر رہا کرنے حکم دیا لیکن ضمانت پر رہائی کے احکامات کے بعد حکام نے لکھوی کو خدشہ نقض امن عامہ کے قانون کے تحت ایک ماہ کے لیے نظر بند کر دیا جس میں ایک، ایک ماہ کی توسیع کی جاتی رہی۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکلاء نے اپنے موکل کی نظر بندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

بھارت کی طرف سے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

بھارت نے 26 نومبر 2008ء کو ممبئی میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کی تھی۔

پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت سات افراد کو حراست میں لے کر اُن کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔

لیکن اب یہ معاملہ عدالت کے سامنے ہے اور عدالتوں کے فیصلوں کا احترام حکومت پر لازم ہے۔

ممبئی حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ اجمل قصاب نامی ایک مبینہ پاکستانی حملہ آور کو بھارتی پولیس نے زندہ پکڑا تھا۔ اجمل قصاب کو ممبئی کی ایک عدالت نے موت کی سزا دی تھی جس پر نومبر 2012ء میں عمل درآمد کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG