رسائی کے لنکس

نیب ریفرنسز:سابق صدر کے خلاف سماعت نو جنوری تک ملتوی


آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

آصف علی زرداری پیر کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو درپیش سلامتی کے خدشات کے باعث انھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت نو جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

سرکاری خرچ پر وزیراعظم ہاؤس میں پولو گراؤنڈ کی تعمیر کے ایک مقدمے میں ان پر پیر کو فردجرم عائد کی جانی تھی لیکن سابق صدر کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر سماعت آئندہ ماہ کی نو تاریخ تک ملتوی کردی گئی۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ ان کے موکل اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور انھیں مکمل سکیورٹی کی فراہمی تک پیش نہیں کیا جا سکتا۔

سابق صدر آصف علی زرداری رواں سال ستمبر میں اپنی پانچ سالہ مدت صدارت مکمل ہونے پر اس منصب سے سکبدوش ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف قائم مختلف مقدمات پر انھیں حاصل صدارتی استثنیٰ کی وجہ سے کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔

ان کے وکیل نے گزشتہ پیشی پر عدالت کو بتایا تھا کہ سابق صدر کے خلاف دائر پانچ ریفرنسز میں ماسوائے پولو گراؤنڈ کیس کے، ان کے موکل پر فرد جرم پہلے ہی عائد کی جا چکی ہے۔ جس پر عدالت نے 23 دسمبر کو گواہان اور سابق صدر کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

صدارتی استثنیٰ ختم ہونے کے بعد آصف زرداری کے خلاف احتساب عدالت میں پانچ ریفرنسز دوبارہ کھولے گئے تھے جن میں وزیراعظم ہاؤس میں ذاتی مقصد کے لیے سرکاری خرچ پر پولو گراؤنڈ کی تعمیر اور ٹریکٹروں کی خریداری کی ایک سرکاری اسکیم میں مبینہ بدعنوانی کے کیسز شامل ہیں۔

سابق صدر کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے اور طویل عرصے تک عدالتوں میں ان پر ہونے والی کارروائی میں کوئی بات ثابت نہیں ہوسکی اور انھیں امید ہے کہ عدالتوں کے فیصلے میں آصف زرداری بے گناہ قرار دیے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG