رسائی کے لنکس

صدر زرداری کا دورہٴ پنجاب، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) کے مابین تنقیدی بیان بازی

  • افضل رحمٰن

اگر پیپلز پارٹی کی پالیسی تصادم کی نہیں ہے تو پھر اعلیٰ قیادت کو اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس لینا چاہیئے: سردار کھوسہ

صدر آصف علی زرداری آج کل پنجاب کے دورے پر ہیں جِس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اورپاکستان مسلم لیگ ( ن) کے بعض رہنماؤں کے مابین تنقیدی بیان بازی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

اِس حوالے سے تازہ ترین بیان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیرِ دفاع احمد مختار کا ہے جِنھوں نے اتوار کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب صدر اسلام آباد رہتےتھے تو اعتراض ہوتا تھا کہ اُنھوں نے اپنے آپ کو صدارتی دفتر تک محدود کر رکھا ہے اور اب صدر لاہور آئے ہیں تو شور مچ گیا ہے۔

احمد مختار کے بقول ، ‘آصف صاحب جب سندھ میں تھے تو پنجاب انتظامیہ کے کچھ رفقا نے کوئی بات نہیں کی، چپ کرکے بیٹھے رہے۔ جیسے ہی وہ پنجاب میں آئے تو شور مچانا شروع کردیا ہے۔ وہ صدرِ پاکستان ہیں، سیاسی جماعتوں نےاُن کومنتخب کیا ہے۔’

چودھری احمد مختار کے اِس بیان پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ( ن) کے ایک اہم مرکزی رہنما سردار ذوالفقار کھوسہ نے بتایا کہ میاں نواز شریف کے جذبات وہی ہیں جو اُنھوں نے، اُن کے بقول، برملا کہہ دیا ہے کہ اگر حکومت کو کوئی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرےگا تو سب سے پہلے وہ اُس کے سامنے آئیں گے۔

سردار کھوسہ نے مزید کہا کہ اُن کی جماعت کا موقف میاں نواز شریف بیان کرتے ہیں۔ اُن کے بقول، اب یہ خود پیپلز پارٹی والوں کو چاہیئے کہ اُن کی طرف سے کون کس طرح کا بیان دیتا ہے۔ اگر پارٹی کی پالیسی تصادم کی نہیں ہے تو پھر اعلیٰ قیادت کو اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس لینا چاہیئے۔

واضح رہے کہ صدر زرداری ہفتے کے روز اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں جمہوری استحکام کے خلاف سازشیں کرنے والوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایسی کوششوں کو وہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

بقول صدر زرداری کے، پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کمی کے دعوے کی آنے والے بلدیاتی انتخابات میں قلعی کھل جائے گی۔

XS
SM
MD
LG