رسائی کے لنکس

’کبھی چھپ کے بھی مل لوتو سیاست سکھا دوں گا‘


صدر زرداری نوڈیرو میں تقریب سے خطاب کررہے ہیں

صدر زرداری نوڈیرو میں تقریب سے خطاب کررہے ہیں

مسلم لیگ ن کے قائدین پارلیمان کے اندر اور میڈیا میں ایک طویل عرصے سے حکمران پیپلزپارٹی کی قیادت کے بارے میں تنقیدی بیانات دیتے آئے ہیں جس میں بالخصوص سرکاری محکموں میں مبینہ بدعنوانی کی اور خراب طرزحکمرانی کا تذکرہ سرفہرست رہا ہے۔ لیکن پارٹی کے سربراہ نواز شریف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی جلسوں سے خطابات میں تنقید کا رخ براہ راست صدر آصف علی زرداری کی طرف کررکھا ہے۔

اس تنقیدی مہم پر صدر زرداری نے پہلی مرتبہ کھل کر جواب دینے کے لیے مقتول وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے دن کا انتخاب کیا اور اس موقع پر نوڈیرو میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف ملک کے جمہوری اداروں اور فوج کے درمیان تصادم کرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ صدر پاکستان کے بقول فوج جن انتہا پسندو ں کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہے نواز شریف ان عناصر کی وکالت کررہے ہیں۔

صدر زرداری جو کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین بھی ہیں، نے مسلم لیگ ن کے قائد کو مولوی نواز شریف کہہ کرمخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج اور پیپلز پارٹی کو لڑوانا چاہتے ہیں مگر ان کے بقول ان کی جماعت ایسا نہیں کرے گی۔”یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے جوانوں اور جرنیلوں کو الگ کرنا چاہتے ہیں ، یہ ناسمجھ سیاست دان یہ نہیں جانتے کہ اس کا انجام کیاہوگا، انجام بہت بھیانک ہوگا، ڈرو اور خوف کرو۔“

ان کا کہنا تھا کہ”یہ مولوی (نواز شریف) کوآج کیوں تکلیف ہورہی ہے ، ہمارے جرنیل اپنے بیٹوں کو مروا رہے ہیں اپنی مسجدوں میں شہادتیں دے رہے ہیں ، اس ملک کو بچا رہے ہیں ان(نواز شریف) کی سوچ سے۔میں مانتا ہوں کہ مولوی نواز کی سوچ شکست کھارہی ہے ۔“

صدر زرداری کی تقریباً پوری تقریر نواز شریف پر تنقید پر مبنی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ”مجھے پتا ہے کہ پاکستان کو کس سے خطرہ ہے پاکستان کو خطرہ اس سوچ سے ہے جس کے یہ مولوی صاحب(نواز شریف) پیروکار ہیں ، جس سوچ کے پیروکار آج کل کے طالب (طالبان) ہیں، ہم اس سوچ کے خلاف جنگ کررہے ہیں ۔“

یہ پہلا موقع ہے کہ صدر زرداری نے عوامی سطح پر کھل کرمسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف پر تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ سیاست سے ناواقف ہیں۔”کبھی سوچو، کبھی سمجھو اور سیکھو اور اگر نہیں سمجھ آتا تو مجھ سے اکیلے میں کبھی چھپ کے بھی مل لو میں ہی سکھا دوں گا۔“

صدر زرداری کی تقریر پر بدھ کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اراکین نے شدید احتجاج کیا اور اس موقف کو دہرایا کے ملک کے صدر ہونے کے ناطے انھیں اس طرح کی سیاسی تقریر اور زبان استعمال کرنے کی آئین اجازت نہیں دیتا۔

XS
SM
MD
LG