رسائی کے لنکس

زرداری واشنگٹن میں اوباما سے ملاقات کریں گے


ایک فائل فوٹو میں صدر آصف زرداری وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران صدر براک اوباما کے ساتھ۔

ایک فائل فوٹو میں صدر آصف زرداری وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران صدر براک اوباما کے ساتھ۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے جمعرات کی صبح پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر آصف علی زرداری اپنے واشنگٹن کے دورے میں صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے۔
صدر آصف علی زرداری پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک کی ی واشنگٹن میں منعقد ہونے والی آخری رسومات میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ 69 سالہ رچرڈ ہالبروک 13 دسمبرکو مختصر علالت کے بعد واشنگٹن کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ممتاز تجزیہ کار مارون وائن بام نے کہا کہ پاکستان اس وقت انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے اور صدر اوباما کی صدر زرداری سے واشنگٹن میں طے شدہ ملاقات اور نائب صدر جو بائڈن کا حالیہ دورہ ، پاکستان کی سول حکومت، جو کہ بہت کمزور ہے، کو ڈپلومیسی کے ذریعے مظبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وائن بام جوکہ امریکی محکمہ خارجہ میں بھی کام کرچکے ہیں کا کہنا تھا کہ صدر اوباما زرداری پر شمالی وزیرستان میں کاروائی کے لیے دباؤ ڈالیں گے، لیکن انکے مطابق صدر زرداری کا پاکستانی افواج پر اتنا زور نہیں چلتا کہ وہ یہ کام کرواسکیں۔ بعض مبصرین اس ملاقات کو محض زرداری کی واشنگٹن میں موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں صدور کے درمیان تبادلہ خیال کا ایک موقع قرار دے رہے ہیں۔

زرداری واشنگٹن میں اوباما سے ملاقات کریں گے

زرداری واشنگٹن میں اوباما سے ملاقات کریں گے

ایوان صدر کے ترجمان فرحت الله بابر کے مطابق یہ صدر زرداری کا ایک نجی دورہ ہے تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ صدر زرداری کی واشنگٹن میں موجودگی کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اُن سے ملاقات کریں گی۔ واشنگٹن میں پاکستان ایمبیسی کے ترجمان نے وائس آف امریکہ کے بتایا کہ صدر کا یہ دورہ سرکاری ہے اور اس سلسلے میں واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں پریس سینٹر بھی قائم کردیا گیا ہے۔

اگرچہ حکام نے صدر زرداری اور وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے درمیان ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیل فراہم نہیں کی ہے لیکن صدر زرداری نے ایک روز قبل اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے علاوہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی حدود میں مشتبہ امریکی ڈرون حملوں پر گفتگو کی تھی۔ توقع کی جاری ہے کہ یہ موضوعات واشنگٹن میں بات چیت کے دوران بھی زیر بحث آئیں گے۔

جو بائیڈن کی اسلام آباد سے روانگی کے بعد پاکستانی اخبارات میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستانی عہدے داروں نے افغانستان میں ایک نئی ’گریٹ گیم‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جمعرات کو وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بھی اپنے مبہم بیان میں ان تحفظات کی تصدیق کی لیکن وہ اس ’گریٹ گیم‘ کی وضاحت کرنے سے گریزاں تھے۔

تاہم اُنھوں نے کہا کہ افغانستان گذشتہ کئی دہائیوں سے مفادات کی جنگ کا شکار ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ اب یہ لڑائی ختم ہونی چاہیئے کیوں کہ اس کی وجہ سے ناصرف افغانستان بلکہ پاکستان بھی شدید متاثر ہورہا ہے۔

”اب افغانستان سے متعلق کسی نئی گریٹ گیم کی گنجائش موجود نہیں ہے اور ایک ہمسایہ ملک ہونے کے حیثیت سے پاکستان بخوبی واقف ہے کہ اس کے کیا نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔“

مقامی میڈیا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی بیرونی حل کارگر ثابت نہیں ہوگا اور ملک میں قیام امن کی کوششوں کی قیادت خود افغانوں کو کرنا چاہیئے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے ملک کے آئین کی پاسداری پر متفق طالبان عناصر سے مفاہمت کے لیے سابق صدر برہان الدین ربانی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ امن کونسل قائم کر رکھی ہے جس کے ایک وفد نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے ۔

دورے کے بعد برہان الدین ربانی کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمتی عمل کے فروغ کے حوالے سے تعاون پر اتفاق موجود ہے اور امن کونسل چاہتی ہے کہ پاکستان اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرے تاہم بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اس بارے میں نئی دہلی کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان باور کرتا آیا ہے کہ وہ مفاہمت کی کوششوں میں ہر وہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے جو افغان حکومت چاہے گی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اس موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ’ ’پاکستان افغانستان کے سیاسی معاملات کا تعین کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور صرف معمول کے دوطرفہ تعلقات کے لیے کوشاں ہے۔“

XS
SM
MD
LG