رسائی کے لنکس

واشنگٹن: گلوبل یوتھ فورم میں پاکستانی کی نمائندگی


مبین الاسلام ایک نوجوان پاکستانی ویڈیو اور فوٹو گرافر ہیں جنہیں پہلی بار گلوبل یوتھ فورم میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔

گلوبل یوتھ فورم، ورلڈ بینک کا ایک سالانہ ایونٹ ہے جس کا مقصد دنیا کا مستقبل بہتر اور محفوظ بنانے کے لیے دنیا بھر کے باصلاحیت نوجوانوں کو متحرک کرنا ہے۔ رواں سال واشنگٹن میں ہونے والے اس فورم میں دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے 150 مندوبین شریک ہوئے جن میں پہلی بار پاکستان سے بھی ایک نوجوان نے شرکت کی۔

مبین الاسلام ایک نوجوان پاکستانی ویڈیو اور فوٹو گرافر ہیں جنہیں پہلی بار گلوبل یوتھ فورم میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔

ورلڈ بینک کے زیرِ اہتمام ہر سال ہونے والے اس فورم کا مقصد مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے عمل میں نوجوانوں کی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔

مبین الاسلام کہتے ہیں کہ نوجوانوں کے اس انتہائی اہم فورم کے لیے ان کا انتخاب اور پاکستان کی نمائندگی ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔

واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے اس تین روزہ فورم کا بنیادی ہدف مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے درمیان روابط بڑھانا اور عالمی امن اور ترقی کے فروغ کے لیے نئے منصوبوں کی تیاری میں نوجوانوں کی شرکت یقینی بنانا تھا۔

فورم کے ایک منتظم میٹس لنڈ برگ کے بقول، "ہم یہ ضرورت مسلسل محسوس کر رہے تھے کہ ہمیں ایک ایسا پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کے مختلف مسائل اور معاملات پر کھل کر بات ہوسکے۔ جہاں نوجوانوں کو اپنی بات کہنے کا موقع ملے اور ان کی بات سننے کے لیے ایسے لوگ اور تنظیمیں موجود ہوں جو نوجوانوں کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ تاکہ ہم سب لوگ ایک بہتر مستقبل کے لیے مل جل کر کام کرسکیں۔"

رواں سال اس فورم میں تعلیم، صحت، روزگار، عالمی امن، تشدد، اور گورننس سمیت کئی اہم عالمی معاملات اور مسائل پر نشستیں اور مباحثے ہوئے جن میں فورم میں شریک نوجوانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تین روزہ پروگرام میں شریک مختلف ملکوں کے نوجوانوں کا کہنا تھا کہ فورم پر جس انداز میں کھل کر مسائل اور معاملات پر گفتگو ہوئی وہ ایک دلچسپ اور ایسا تجربہ تھا جس سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔

فورم میں شریک ایک افریقی مندوب ٹیم لونگ رابرٹ نے بتایا کہ وہ اس فورم کے دوران یوتھ ایکٹوازم پر ہونے والے ایک مذاکرے میں شریک ہوئے۔

ان کے بقول اس مذاکرے کے دوران مجھے ترکی اور شام کی ان خواتین کے تجربات سننے کا موقع ملا جو عراق میں داعش کی شدت پسندی سے متاثر ہونے والے افراد کی بحالی کے منصوبوں سے منسلک ہیں۔ میرے خیال میں ان کے تجربات سے خود میں اور میرا ملک بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور ایک پرامن اور محفوظ دنیا کا خواب پورا کرسکتے ہیں۔

مبین الاسلام کا کہنا ہے کہ اس فورم نے نہ صرف امریکہ بلکہ دیگر معاشروں کےبارے میں ان کی رائے تبدیل کی ہے اور انہیں اندازہ ہوا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ، خصوصاً نوجوان ایک ہی طرح کے ہیں اور ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ گلوبل یوتھ فورم کے ذریعے نوجوانوں کے ساتھ ان کے مسائل اور ان کی ترجیحات پر جس بین الاقوامی مکالمے کا آغاز کیا گیا ہے، وہ صرف گفتگو تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی روشنی میں عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو عالمی پالیسی سازی میں شریک کیا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG