رسائی کے لنکس

پاک، افغان صدور کی جانب سے تشدد کی مذمت


پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں

صدر زرداری کی تقریر کے دوران ماضی کی طرح اس سال بھی ان کی مقتول اہلیہ اور پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر پوڈیم پر رکھی گئی تھی

پاکستان اور افغانستان کے صدور نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے اپنے خطابات میں اپنے اپنے ملک میں دہشت گردوں کےحملوں اور بیرونی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے منگل کو سربراہی اجلاس کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں کیے جانے والے دہشت گردوں کے حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہری ہلاک ہوچکے ہیں جس کے پیشِ نظر ان کی حکومت کی پہلی ترجیح ملک میں امن و امان اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

صدر زرداری کی تقریر کے دوران ماضی کی طرح اس سال بھی ان کی مقتول اہلیہ اور پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر پوڈیم پر رکھی گئی تھی ۔ محترمہ بھٹو خود بھی 2007ء میں کیے گئے ایک دہشت گرد حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔

اپنے خطاب میں صدر زرداری کا کہنا تھا، "پاکستان سے آج کل بہت سے سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ میں یہاں ان سوالوں کا جواب دینے نہیں آیا۔ پاکستان کے لوگ ، سیاست دان اور فوجی پہلے ہی ان سوالات کا [اپنی قربانیوں سے] جواب دے چکے ہیں۔ اب تک سات ہزار پاکستانی فوجی اور 37 ہزار عام شہری اپنی جانیں قربان کرکے ان سوالات کا جواب فراہم کرچکے ہیں"۔

اپنے خطاب میں افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے عوام ان دہشت گردوں گروہوں کے ہاتھوں گزشتہ کئی عشروں سے تکلیفیں اٹھا رہے ہیں جنہوں نے افغان سرزمین کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا ہے۔

لیکن انہوں نے واضح کیا کہ صرف فوجی مداخلت سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

ان کےبقول، "میں سمجھتا ہوں کہ سلامتی کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے صرف عسکری کوششوں پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ [اسی لیے] ہم نے ملک میں امن و مفاہمت کے عمل کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد مسلح حزبِ مخالف کے تمام عناصر کو پرامن زندگی کی طرف واپس لانا ہے"۔

دونوں صدور نے اپنی تقاریر میں اسلام کے نام پر ہونے والے پرتشدد واقعات کی بھی مذمت کی لیکن ساتھ ہی ساتھ عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر ہونے والی توہین کی حوصلہ شکنی کرے۔

صدر زرداری اور صدر کرزئی ، دونوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات لانے کا بھی مطالبہ دہرایا تاکہ اس ادارے کو مزید جمہوری اور مساوی بنایا جاسکے۔

دونوں رہنمائوں نے عالمی برادری سے فلسطین کو آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے، اسے اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دینےاور فلسطینی عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے مطالبات بھی کیے۔
XS
SM
MD
LG