رسائی کے لنکس

ڈاکٹر آفریدی کے بھائی کی عدالتی فیصلے پر کڑی تنقید

  • شمیم شاہد

ڈاکٹر شکیل آفریدی (فائل فوٹو)

ڈاکٹر شکیل آفریدی (فائل فوٹو)

امریکہ ڈاکٹر آفریدی کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ اس کے خیال میں دنیا کو مطلوب ترین دہشت گرد تک رسائی میں مدد کر کے اُنھوں نے پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفاد میں کام کیا ہے۔

ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی پناہ گاہ تک پہنچنے میں امریکہ کی مدد کرنے کے جرم میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 33 سال قید کی سزا کے قبائلی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اُن کے ایک بھائی نے اسے ’’یک طرفہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی‘‘ قرار دیا ہے۔

جمیل آفریدی اور ان کے خاندان کے وکلاء نے پیر کو پشاور میں ہنگامی طور پر بلائی گئی ایک پرہجوم نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفریدی بے گناہ ہے۔

’’میرا بھائی (شکیل آفریدی) غدار نہیں ہے، وہ ایک محب وطن ہے۔ سزا یکطرفہ ہے اور ہم اس غیر قانونی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔‘‘

اُنھوں نے خیبر ایجنسی کی انتظامیہ پر عدالتی فیصلے کی تفصیلات کی فراہمی میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ ’’نہ تو اُنھوں نے ہمیں عدالت حکم کی نقل فراہم کی ہے اور نہ ہی ڈاکٹر شکیل سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔‘‘

امریکہ ڈاکٹر آفریدی کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ اس کے خیال میں دنیا کو مطلوب ترین دہشت گرد تک رسائی میں مدد کر کے اُنھوں نے پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفاد میں کام کیا ہے۔

لیکن پاکستان میں حکام کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ریاست سے غداری کے مترادف ہے اور خیبر ایجنسی سے تعلق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر آفریدی پر انتہائی غیر مقبول قبائلی قوانین ’ایف سی آر‘ کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس میں ملزم کو اپنا دفاع خود کرنا ہوتا ہے۔

یہ معاملہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا ہے۔

جمیل آفریدی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بھائی کے ساتھ ہونے والی ’’ناانصافی‘‘ کا ازخود نوٹس لے کر ان پر شفاف اور منصفانہ مقدمہ چلانے کو یقینی بنائیں۔

پشاور میں نیوز کانفرنس میں موجود ڈاکٹر آفریدی کے وکیل سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ مروجہ قوانین کے تحت مقدمہ ایبٹ آباد میں چلنا چاہیئے تھا کیونکہ مبینہ جرم اسی شہر میں سرزد ہوا۔

ڈاکٹر آفریدی نے ایبٹ آباد کے اُس علاقے میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے اور ہیپٹائٹس سے حفاظت کے ٹیکے لگانے کی جعلی مہم چلائی تھی جہاں اُسامہ بن لادن اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔

اس مہم کا مقصد بن لادن کے اہل خانہ کے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے اس امر کی تصدیق کرنا تھا کہ گھر کے اندر موجود شخص القاعدہ کے مفرور لیڈر ہی تھا۔

امریکہ میں ڈاکٹر آفریدی کو ایک ہیرو قرار دیا جا رہا ہے اور وزیر خارجہ ہلری کلنٹن 33 سال قید کی سزا کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دے چکی ہیں، جب کہ امریکی سینیٹ کی کمیٹی نے گزشتہ ہفتے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی مالی امداد میں 33 ملین یعنی تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمی کی منظوری بھی دی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG