رسائی کے لنکس

گرفتار امریکی نوجوانوں کی سزامیں اضافہ کی درخواست سماعت کے لیے منظور


ایک پاکستانی عدالت نے کہا ہے کہ اس نے استغاثہ کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت جیل میں موجود پانچ امریکی نوجوانوں کو عمر قید کی سزا سنانے کی درخواست سماعت کے لئے منظور کرلی ہے۔

مقدمے کے سرکاری وکیل رانا بختیار نے پیر کے روز وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کو ایک ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائیں ناکافی ہونے کی بناء پر استغاثہ نے پنجاب کی صوبائی حکومت کی طرف سے ان کی سزا ؤں میں اضافے کی اپیل دائر کی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے پانچوں امریکی نوجوانوں کو رواں سال جون میں پنجاب کے شہر سرگودھا میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کی جانب سے دہشت گردی کی سازش کرنے اور کالعدم تنظیموں کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کے الزامات کے تحت دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

پانچوں ملزمان نے سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کررکھی ہے جس کی سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پیر کے روز عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر کردہ اپیل اور استغاثہ کی جانب سے سزاؤں میں اضافہ کی درخواست کی ایک ساتھ سماعت کی جائے گی۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے پانچوں نوجوانوں پر ملک میں دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے اور پڑوسی ملک افغانستان میں سرگرم شدت پسندوں سے تعلق کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے تاہم زیرِ حراست نوجوانوں کا موقف ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور افغانستان میں جاری فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی غرض سے پاکستان آئے تھے۔

نوجوانوں نے حراست میں رکھے جانے کے دوران امریکی اور پاکستانی تفتیشی حکام کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

20 سے 25 سال کی عمر کے حامل ان نوجوانوں میں سے دو کا آبائی تعلق پاکستان، جبکہ باقی کا تعلق مصر، اریٹیریا اور یمن سے ہے۔

XS
SM
MD
LG