رسائی کے لنکس

پاکستانی صنعت کی ضرورت ، ڈالر نہیں تجارت

  • ایرا میلمن
  • جمیل اختر

پاکستانی صنعت کی ضرورت ، ڈالر نہیں تجارت

پاکستانی صنعت کی ضرورت ، ڈالر نہیں تجارت

پاکستان میں آنے والے سیلابوں نے جہاں دو کروڑ سے زیادہ افراد کو متاثر کیا، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ، 1700 سے زیادہ افراد لقمہ اجل بنے ، بڑی تعداد میں مویشی اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں وہاں پاکستانی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ٹیکسٹائل کی صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچاہے۔

پاکستان میں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد پاور لومز اور ریڈمیڈ گارمنٹس کے شعبوں سے وابستہ ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شعبوں کے لیے کام کرنے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے اور یہ صنعت ملک میں تقریباً 40 فی صد روزگار فراہم کررہی ہے۔

لیکن تاریخ میں اپنی نوعیت کے بڑے سیلابوں کے نتیجے خام کپاس کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ فصل میں کمی کی وجہ سے امریکہ سمیت بیرونی ممالک کے صارفین کے لیے تیار کی جانے والی بیڈ شیٹس ، ریڈی میڈ گارمنٹس اور دوسری مصنوعات کی پیداوار 30 فی صد تک گرسکتی ہے۔

پاکستان کو سیلاب کے بعد دنیا بھر سے کروڑوں ڈالر امداد مل رہی ہے، لیکن پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل آفتاب احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نقد رقوم کی بجائے دوسری چیزوں کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ فوری مدد نقدی میں نہیں بلکہ تجارت کی شکل میں کرنی چاہیے۔ یورپی ممالک اور امریکہ ہماری مصنوعات کی اپنی مارکیٹوں تک رسائی اور ڈیوٹی میں معافی کے ذریعے فوری مدد کرسکتے ہیں۔

مگر دوسری جانب یورپ اور امریکہ میں معاشی سست روی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ یورپی یونین پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی کی شرح میں کچھ کٹوتیاں کرنے پر رضامند ہوچکی ہے لیکن عارضی طورپر۔ ادھر امریکہ میں پاکستان میں تعمیر نو کے حوالے سے زون قائم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔ جن کے ذریعے پاکستان کے تشدد سے متاثرہ شمال مغربی علاقوں کو ڈیوٹی میں رعایت اور تجارتی مراعات فراہم کی جاسکیں گی۔ تاہم اس سے پاکستان کے جنوبی علاقوں میں موجود ٹیکسٹائل کی صنعت کی کوئی مدد نہیں ہوسکے گی۔ مگر یہ قانون سازی امریکہ میں بے روزگاری کی بلندترین شرح کے باعث سینیٹ میں التوا میں پڑی ہوئی ہے۔ اس قانون سازی کو امریکی ٹیکسٹائل اور کپڑے کی صنعت کی جانب سے بھی مخالفت کا سامنا ہے جو 2004ء سے اب تک اپنے ایک تہائی سے زیادہ کارکنوں سے محروم ہوچکی ہیں۔

فیصل آباد میں پاور لومز مالکان کی تنظیم کے ایک عہدے دار چوہدری وحید رامے کہتے ہیں کہ ایسا کیا جانا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستان عسکریت پسندی کو کچلنے کے لیے مغرب کے ساتھ تعاون کررہاہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو زیادہ تعاون کی ضرورت ہےکیونکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور اس جنگ میں ہم اب تک اربوں روپے اور ہزاروں زندگیوں کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اتحادیوں کو ہماری معیشت کی مدد کرنی چاہیے۔

کاروباری شعبے سے وابستہ دوسرے راہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری تشدد سےکاروبار کو بہت نقصان پہنچ رہاہے۔

XS
SM
MD
LG