رسائی کے لنکس

امریکی صحافی کا قتل قابل مذمت ہے: مذہبی اسکالر


حافظ طاہر اشرفی

حافظ طاہر اشرفی

حافظ طاہر کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ایس "اسلامک اسٹیٹ" سے دنیا بھر کے علما لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان علما کونسل کے سربراہ کے بقول مسلمانوں کا نمائندہ عمل وہی ہو گا جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو گا۔

عراق کے شمال و مغرب اور شام کے سرحدی علاقوں میں سرگرم شدت پسند تنظیم 'اسلامک اسٹیٹ' کی طرف سے یرغمال بنائے گئے امریکی صحافی کے قتل کی پاکستان میں علما کی ایک نمائندہ تنظیم نے مذمت کرتے ہوئے اس فعل کو اسلام کی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔

پاکستان علما کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسلام قطعی طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی بے گناہ کو "بغیر کسی شرعی وجہ کے" اس طرح قتل کر دیا جائے۔

اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے منگل کو ایک وڈیو جاری کی گئی جس میں امریکی صحافی اسٹیون سوٹلوف کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا جب کہ گزشتہ ماہ اسی تنظیم نے ایک اور امریکی صحافی کو قتل کرنے کی وڈیو بھی جاری کی تھی۔

یہ دونوں صحافی گزشہ سال سے ان کے قبضے میں تھے اور اس شدت پسند گروہ نے اپنی تحویل میں موجود ایک برطانوی شہری کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اسٹیون سوٹلوف کے قتل کی امریکہ کے صدر براک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

حافظ طاہر کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ایس "اسلامک اسٹیٹ" سے دنیا بھر کے علما لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں جب کہ ان کے بقول اس دھڑے سے القاعدہ اور طالبان کی تنظیموں نے بھی خود کو علیحدہ کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم کسی بھی طرح مسلمانوں کی نمائندہ نہیں ہو سکتی ہے۔

"ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ان لوگوں کے عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں خواہ وہ یزیدی قبیلے کے لوگوں کا قتل ہو یا غیر مسلموں کی عبادت گاہوں اور مسلمانوں کے مقدسات کی بے حرمتی ہو۔۔۔صحافی تو اپنی خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں ان کا کسی جنگ یا نظام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تو یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ قابل مذمت ہے۔"

پاکستان علما کونسل کے سربراہ کے بقول مسلمانوں کا نمائندہ عمل وہی ہو گا جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو گا۔

اسلامک اسٹیٹ نے عراق کے شمال میں بہت سے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں موجود مذہبی اقلیتوں کو مذہب تبدیل نہ کرنے کی صورت میں قتل کرنے کی دھمکی بھی دی رکھی ہے۔

اس گروہ کے خوف سے عیسائی اور یزیدی برادری کے ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG