رسائی کے لنکس

بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا کہ پاکستانی شہری ڈاکٹر چشتی پر کسی کو قتل کرنے کا نہیں بلکہ ’دانستہ طور‘ پر زخمی کرنے کا جرم ثابت ہوتا ہے اور وہ پہلے ہی 16 سال جیل میں گزار چکے ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے بزرگ پاکستانی شہری ڈاکٹر خلیل چشتی کی رہائی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

عدالت نے ڈاکٹر چشتی کو بھارتی شہر اجمیر میں قیام کے دوران قتل کے مقدمے میں سزا سنائی تھی۔

لیکن بدھ کو بھارت کی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر چشتی پر کسی کو قتل کرنے کا نہیں بلکہ ’دانستہ طور‘ پر زخمی کرنے کا جرم ثابت ہوتا ہے اور وہ پہلے ہی 16 سال جیل میں گزار چکے ہیں۔

اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے ڈاکٹر چشتی کو رواں سال مئی میں ضمانت پر رہا کرنے کے بعد پاکستان جانے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد وہ تقریباً 20 سال بعد اپنے وطن واپس آئے تھے۔ تاہم عدالت نے انھیں حکم دیا تھا کہ انھیں مقدمے کی سماعت کے لیے نومبر میں دوبارہ پیشی کے لیے بھارت آنا ہوگا۔

عدالت کے حکم کے مطابق وہ دوبارہ بھارت چلے گئے تھے جہاں بدھ کو ان کی رہائی کا حکم جاری کیا گیا۔

ڈاکٹر چشتی جامعہ کراچی کے شعبہ مائیکرو بیالوجی سے وابستہ تھے اور مارچ 1992ء میں اپنی علیل والدہ کی تیمار داری کے لیے بھارتی شہر اجمیر شریف گئے جہاں خاندانی جھگڑے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد اُنھیں دیگر افراد سمیت قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔
XS
SM
MD
LG