رسائی کے لنکس

کچھ ڈرامے ایسے بھی ہیں جو اپنے موضوع اور ٹریٹمنٹ کی وجہ سے پاکستانی ڈراموں میں آنے والی ’میچورٹی‘ اور حقیقی پن کو نمایاں کرتے ہیں

پاکستان میں ٹیلی ویژن پر ابتدائی دور سے ہی ایسے ڈرامے پیش کئے جاتے رہے ہیں جن کی شہرت اور مقبولیت نے سرحدوں سے نکل کر پوری دنیا میں اپنے جھنڈے گاڑے اور آج تک ان ڈراموں کے اداکاروں کو لوگ ان کے اصل ناموں سے زیادہ ان کے کردار کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔

کچھ وقت کے لئے ڈرامے جمود کا شکار ہوئے۔ لیکن، پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت کا ایک بار پھر احیا ہوا ’ہمسفر‘ اور ’زندگی گلزار ہے‘ جیسے ڈراموں سے۔ ہمسفر نے جہاں پسندیدگی کے نئے ریکارڈ قائم کئے وہیں ماہرہ خان کو منجھی ہوئی اداکارہ کی شناخت دی اور فواد خان کو نیا ’ہارٹ تھروب‘ بنا دیا۔

ہمسفر اور اس کے بعد پیش کئے گئے اسی انداز کے ڈراموں کی عوام میں مقبولیت اپنی جگہ، لیکن یہ بھی حقیقت کہ ان ڈراموں کی کہانیوں میں اصل زندگی کی جھلک کم ہی نظر آتی ہے۔ لیکن، کچھ ڈرامے ایسے بھی ہیں جو اپنے موضوع اور ٹریٹمنٹ کی وجہ سے پاکستانی ڈراموں میں آنے والی میچورٹی اور حقیقی پن کو نمایاں کرتے ہیں۔

انہی ڈراموں میں سے ایک ہم ٹی وی سے پیش کیا جانے والا ڈرامہ وہ ہے جس کی کہانی جادوئی طاقت اور شیطانی علم کا احاطہ کرتی ہے۔ چینل کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات کے دوران بتایا کہ اس کہانی میں گوہر کی بیٹی مہر کی کچھ عادات پرُاسرار دکھائی گئی ہیں۔ ایسے میں جب رقیہ اپنے شادی شدہ بیٹے فیصل کا رشتہ لے کر آتی ہے تو مہر کی والدہ اس کی فوراً شاد ی کردیتی ہے۔

فیصل کا ایک 10سال کا بیٹا بھی ہے۔شادی کے بعد رقیہ کو مہر کی پراسرار عادات پریشان کرتی ہیں اور وہ اسے گھر سے نکالنے کی منصوبہ بندی کرتی ہے لیکن فیصل اپنے بیٹے کو ایک بار پھر ماں سے محروم نہیں کرنا چاہتا اس لئے وہ مہر کا روحانی علاج کرانے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ روحانی علاج مہر کو نارمل لڑکی کے روپ میں واپس لاسکے گا یا نہیں یہی اس ڈرامے کا تانا بانا ہے۔

اسے تحریر کیا ہے سید عاطف علی نے جبکہ ہدایات انجلین ملک اور پیشکش انجلک فلمز کی ہے۔ اداکاروں میں شامل ہیں اریج نروان، خالد احمد، روبینہ اشرف اور اسریٰ غزل۔

فیصل قریشی، اعجاز اسلم اور سمیہ ممتاز کا ڈرامہ ’یاریاں‘ بھی کچھ مختلف ہے۔ اس کی کہانی ظالم ساس اور سیدھی سادی بہو کی روایتی موضوع سے ہٹ کر تین دوستوں کی کہانی تھی جو محبت، انتقام، پانے اور کھونے کے اتار چڑھاوٴ سمیٹے ہوئے تھی۔

اسی طرح کا ایک ڈرامہ ’مورا پیا‘ بھی تھا جو عورتوں پرتشدد اور اس کے بعد زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تھا۔آمنہ شیخ کی لاجواب اداکاری سے سجا یہ ڈرامہ اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ پاکستانی ڈرامے کے ذریعے کتنے اچھے انداز میں معاشرے کی کمزوریوں کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔

نادیہ جمیل نے ایک ماڈرن ورکنگ ویمن کا کردار خوبی سے ادا کیا ’میرے آس پاس‘ میں۔ ان کے کواسٹار تھے معمر رانا اور دیپک پروانی۔ ڈرامے کا ٹاپک اس حوالے سے بولڈ اور غیرمعمولی تھا کہ اس میں شوہر کی بیوفائی کا شکار دکھائی گئی عورت نے اس کی واپسی کا انتظارکرنے کے بجائے اپنے لئے نیا راستہ چنا اور نئے جیون ساتھی کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔

’میرے آس پاس‘ ن، ’ساس بھی کبھی بہو تھی‘، جیسے سوپ کی نقل میں بننے والے ڈراموں کے ٹرینڈ کو بھی بدل ڈالا۔ یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جہاں سے پاکستانی ڈراموں کی دوبارہ شہرت کا آغاز ہوا۔ ان ڈراموں کے ذریعے ٹیلی ویثرن کے تازہ اور ٹیلنٹڈ اداکار سامنے آئے جیسے فواد خان، نوین وقار، صنم سعید اور جنید خان۔

سچ پوچھئے تو ڈرامے کے احیا میں ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ پروڈکشنز نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں درجنوں پروکشن ہاوٴسز کام کر رہے ہیں، ان کا کام عوام میں پذیرائی کا سبب ہے۔ ٹی وی اسٹارآصف رضا میر کا ’اے این پی پروڈکشن‘ نامی ادارہ اس وقت سب سے کامیاب شمار ہورہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں جیو ٹی وی جیسے ملک کے بڑے اور کامیاب چینل نے اے اینڈ پی پروڈکشن سے باقاعدہ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت دونوں ادارے ملکر انٹرٹیمنٹ انڈسٹری میں نئے سے نئے تجربات کررہے ہیں جس کے سبب ڈراموں کی ایک بڑی کھیپ تیار ہو گئی ہے۔ ادارے کی جانب سے وی او اے کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ان میں سے کچھ ڈراموں کی ابتدائی قسطوں کی نمائش جاری ہے جبکہ باقی جلد ہی ’ہر پل جیو‘۔۔ اسکرین کی زینت بنیں گے۔
XS
SM
MD
LG