رسائی کے لنکس

لندن میں والتھم اسٹو کی رہائشی نورین الرحمن دنیا کی سب سے طویل سمندری ریس 'دی کلپر راؤنڈ ورلڈ ریس' میں شامل ہیں

دنیا میں بادبانی کشتیوں کی طویل ترین ریس لندن میں شروع ہوگئی ہے،جس میں پہلی بار حجاب پہننے والی ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاتون نے حصہ لیا ہے۔

لندن میں والتھم اسٹو کی رہائشی نورین الرحمن دنیا کی سب سے طویل سمندری ریس 'دی کلپر راؤنڈ ورلڈ ریس' میں شامل ہیں وہ جہازرانی کا کوئی تجربہ نہیں رکھتیں، لیکن اس چیلنچ کے ذریعےجنوبی ایشیائی خواتین کے بارے میں پائےجانے والے دقیانوسی تصورات کو غلط ثابت کرنا چاہتی ہیں۔

ایک سال تک جاری رہنے والی کشتیوں کی ریس اگرچہ دیگر شرکاء کے لیے ایک سخت چیلنچ ہو سکتا ہے لیکن نورین اس مقابلے میں اپنی شرکت سے لوگوں کو یہ احساس دلانا چاہتی ہیں کہ حجاب مسلم خواتین کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن رہا ہے۔

دوسویں بار منعقد ہونے والی دنیا کی طویل ترین ریس میں 12 ٹیمیں 40.000 نائٹکل میل کا فاصلہ طے کریں گی۔

32 سالہ نورین بارہ ٹیموں کے 700 شرکاء میں سے ایک ہیں،جو آٹھ مرحلوں پر مشتمل سمندری ریس کے دوران دنیا کے گرد ایک سال تک سفر کریں گی۔

کلپر راؤنڈ ورلڈ ریس کا انعقاد کرنے والی تنظیم کے مطابق ستر فٹ بلند کشتی میں صرف ایک پیشہ ور کپتان ہے جبکہ عملے کے باقی ارکان کو جہاز رانی کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

بادبانی کشتیوں کی عالمی ریس میں اساتذہ، ڈاکٹرز، طلبہ اور انجنیئرز بھی شریک ہیں جن کی عمریں 18 سے 74 برس کے درمیان ہیں جبکہ 40 فیصد شرکاء کو جہاز رانی کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔

اس سخت مقابلے میں نورین برطانیہ کے ایک عملے کے طور پر پہلے مرحلے میں بحر اوقیانوس کو پار کریں گی ۔

نورین ریاضی کی استانی ہیں۔ سی بی سی نیوز سے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "میں ریس پر جارہی ہوں میرے سر پر حجاب ہے میں نماز بھی ادا کروں گی مجھے آگے بڑھنا ہے ۔"

نورین کے مطابق وہ اپنے عقیدے اور حجاب سے متعلق غلط ٖفہمیوں کو دور کرنا چاہتی ہیں اور اسی لیے مقابلے میں شریک ہوئی ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ لڑکیوں کو ایسا ہونا چاہیئے کہ وہ دنیا میں اپنا آپ منوانے کے لیے مواقع تلاش کریں انھیں پتا ہونا چاہیئے کہ وہ جہاز رانی کے مقابلے میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔

اتوار کو اس دوڑ کی افتتاحی تقریب لندن کے مشہور زمانہ ٹاور برج میں ہوئی جہاں سے 44 ممالک سے آئے ہوئے شرکاء کی کشتیاں دریائے ٹیمز سے ایک ساتھ روانہ ہوئیں،جبکہ ریس کا آغاز پیر کے روز سینٹ کتھرین سے ہوا پہلے مرحلے میں کشتیاں برازیل میں ریوڈی جینرو تک کا سفر کریں گی۔

مقابلے کے دیگر مراحل میں کشتیاں برازیل سے جنوبی افریقہ، البانیا اور مغربی آسٹریلیا پہنچیں گی اور پھر کوئنزلینڈ سے ویتنام اور چین سے ہوتے ہوئے سیاٹل سے پاناما اور نیویارک کا سفر کریں گی۔ آخر میں نیویارک سے لندن اگلے سال جولائی میں واپس پہنچیں گی۔

XS
SM
MD
LG