رسائی کے لنکس

اہانت کا الزام، ملزمہ کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے: ایمنسٹی

  • واشنگٹن

عیسائی پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں

عیسائی پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ فوری طور پر اہانت کے قانون میں ترمیم لائے، جس میں بے حرمتی کی سزا موت ہے

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اُس عیسائی لڑکی کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے جن پر ملک کے اہانت کےقانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقدس اوراق کو نذر آتش کرنے کا الزام ہے۔

پولیس نے گذشتہ ہفتے رمشا مسیح کو اُس قت گرفتار کیا تھا جب ہمسایوں نے اسلام آباد میں واقع اُن کے گھر کےباہر احتجاج کر رکھا تھا۔ وہ اِس بات پر مشتعل تھے کہ مبینہ طور پر بچی نے اُن اوراق کو جلا دیا تھا جن میں قرآنی آیات درج تھیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ لڑکی کا مقصد بے حرمتی نہیں تھا، بلکہ اُنھوں نے کھانا پکانے کی غرض سے کچرے کے ڈھیر سے اٹھائی گئی لکڑیوں کو آگ لگائی تھی۔

صدر آصف علی زرداری نے اس معاملے کی چھان بین کے احکامات دیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کا دماغی توازن درست نہیں ہے اور وہ محض بارہ برس کی بچی ہے۔

منگل کے روز ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اہانت کے قانون میں ترمیم لائے، جس میں بے حرمتی کی سزا موت ہے۔

لندن میں قائم ہیومن رائٹس گروپ نے صدر زرداری کے ’فوری احکامات ‘ کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کو وقعت نہیں رکھتی تا وقطیکہ اہانت سے متعلق قانون کی اصلاح نہیں کی جاتی۔
ایمنسٹی نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ قانون کا سہارا لیتے ہوئے لوگ اپنےذاتی حساب نہ چکائیں یا عام شہریوں کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔

ایمنسٹی نے پاکستان حکام پر بھی زور دیا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کی بچی اور اُس کے خاندان کو مشتعل لوگوں کے حملوں سے محفوظ رکھا جائے۔

گذشتہ برس، پاکستان کے اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کو اسلام آباد میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جو کہ وفاقی کابینہ کے واحد اقلیتی وزیر تھے اور پنجاب کے صوبائی گورنر سلمان تاثیر کو اپنے ہی محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اہانت سے متعلق قانون کے مخالف ہیں۔

عیسائی پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں اور کُل آبادی کے مقابلے میں اُن کی تعداد تقریباً پانچ فی صد ہے۔
XS
SM
MD
LG