رسائی کے لنکس

کلبھوشن کے مقدمہ سے متعلق حکومت کی حکمت عملی پر تنقید


کلبھوشن یادو (فائل فوٹو)

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی شہری کلبھوشن یادو کے مقدمہ سے متعلق اختیار کیے گئے طریقہ کار پر حکومت پاکستان کو ناصرف حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے بلکہ کئی وکلاء بھی قانونی حکمت عملی سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف نے جمعرات کو اپنے عبوری فیصلے میں کہا کہ پاکستان میں زیر حراست اور فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے بھارتی شہری کلبھوشن یادو کی سزا پر حتمی فیصلہ آنے تک عمل درآمد نا کیا جائے۔

اس فیصلے کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ کے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے غیر مناسب طریقہ کار اخیتار کرنے اور پاکستان کی طرف سے عالمی عدالت میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وکیل خاور قریشی کی تقرری پر بھی تنقید شروع ہو گئی۔

حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف میں اس مقدمہ میں اپنے موقف کو موثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "آپ عدالت کے اختیار سماعت کو چیلنج کرتے یا نا کرتے لیکن یقینی طور پر یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمیں اس وقت اس مقدمہ کی سماعت نہیں چاہیے آپ بہت کچھ کر سکتے تھے ۔۔اس کے لیے آپ دو تین بین الاقوامی قانون کے ماہرین کی ٹیم بناتے"

شیری رحمن نے مزید کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے بھی دلائل کے لیے دیئے گئے 90 منٹ کا پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا اور صرف 50 منٹ میں اپنا موقف پیش کر کے دلائل ختم کر دیئے۔

پاکستان کی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت یہ مقدمہ بہت اچھے طریقے سے لڑے گی اور اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

"یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس کے لیے بہترین پاکستانی وکیل کا انتخاب کیا گیا ہے۔۔ حزب مخالف کو چاہیے کہ بہت سارے ایسے مسئلے ہیں جن پر سیاست کی جا سکتی ہے لیکن جو قومی مسائل ہوتے ہیں ان پر قوم کو متحدہ ہونا چاہیے۔"

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینیئر قانون دان کامران مرتضیٰ نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس مقدمہ کو بہت بہت بہتر انداز میں لڑا جا سکتا تھا۔

"(پاکستان کو) جو پریشانی ہوئی ہے اس سے ایک بیان دے کر بچا سکتا تھا، (بھارت) نے کہا تھا کہ اس معاملے کی فوری سماعت کی جائے اگر وہ یہ کہہ رہے تھے تو ہم صرف یہ کہتے دیتے کہ ہم پھانسی نہیں دے رہے تو ہمارے بیان سے فوری سماعت کا معاملہ ختم ہو سکتا تھا۔"

بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایران میں تجارت کر رہے تھے جہاں سے پاکستان نے اُنھیں اغوا کیا۔

تاہم پاکستان کی طرف کلبھوشن کو اغوا کرنے سے متعلق بھارت کے دعوے کو سے رد کرتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے کہ تین مارچ 2016 کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر کے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کا حاضر سروس ملازم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG