رسائی کے لنکس

پاکستان کی وزارت دفاع نے اطلاعات کے مطابق فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے لیے ’این او سی‘ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد راحیل شریف ایک خصوصی طیارے کے ذریعے سعودی روانہ ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب کی زیر قیادت مسلم ممالک کے عسکری اتحاد کی کمان کا معاملہ پاکستان میں حالیہ مہینوں میں ایک بڑا موضوع بحث بنا رہا، جس پر حکام کی طرف سے مبہم بیانات اور اُن کی وضاحتیں سامنے آتی رہیں۔

واضح رہے کہ اس عسکری اتحاد میں سعودی عرب کا حریف ملک ایران اور بعض دیگر شیعہ ریاستیں بشمول عراق و شام شامل نہیں ہیں۔

رواں ماہ ہی پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کا بھی ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں اُنھوں نے پاکستانی حکومت کی طرف سے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سعودی قیادت میں قائم کیے گئے عسکری اتحادی کی قیادت سنبھالنے کے لیے دیئے گئے اجازت نامے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم پاکستانی حکومت میں شامل عہدیداروں کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ مسلم ممالک کا فوجی اتحاد کسی خاص ملک یا مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ راحیل شریف کوئی ایسا کام نہیں کریں گے، جو اُن کے بقول ایران کے خلاف ہو گا۔

حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کی رکن نفیسہ شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ راحیل شریف کو ’این او سی‘ جاری کرنے سے قبل حکومت کو پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

’’یہ اگر ایسا کرنا ہی تھا اور حکومت کی یہ پالیسی تھی تو پارلیمان سے ضرور ان کو مشاورت کرنی چاہیے تھی اور پارلیمان اکثریت رائے یہ فیصلہ دے دیتی تو کہ ہاں بیشک راحیل شریف جائیں۔۔۔ تو یہایک جائز بات تھی اس کو اب راز رکھکر روزانہ تضاد سے پھر پور سے بیانات دے کر۔۔۔ آپ نے ایک ہوائی جہاز میں ایک سابق جنرل کو جو ایک بہت مقبول جنرل رہے ان کو بھیج کر ان کی جو اس ملک میں میں حیثت تھی وہ بھی متاثر ہوئی ہے اور خود حکومت کی خارجہ پالیسی ہےوہ بھی بہت بڑا سوالیہ سوال ہے۔‘‘

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین شیخ روحیل اصغر کہتے ہیں کہ اس معاملے میں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیئے۔

’’جہاں تک حزب اختلاف کا یہ کہنا ہے کہ پارلیمان کو اس کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے تو میرا خیال ہے کہ یہ پارلیمان کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔۔۔ وہ ریٹائرڈ جنرل ہیں۔۔۔‘‘

پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ماضی میں تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے بھی پاکستانی قیادت کی طرف سے کوشش کی گئی تھی اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں جاری رہیں گے۔

دسمبر 2015ء میں سعودی عرب نے لگ بھگ 34 اسلامی ملکوں پر مشتمل ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جس کا ایک اہم مقصد دہشت گردی اور خاص طور پر شدت پسند تنظیم داعش کے خطرے سے نمٹنا بتایا گیا۔ اب اس اتحاد میں شامل ممالک کی تعداد 39 بتائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG