رسائی کے لنکس

’وزیراعظم ہاؤس سے نکلا تو قتل ہوجاؤں گا‘


حسین حقانی (فائل فوٹو)

حسین حقانی (فائل فوٹو)

امریکہ کے لیے سابق سفیر حسین حقانی نےخدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اُنھوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی سرکاری رہائش گاہ سے قدم باہر نکالا تو انھیں قتل کردیا جائے گا۔

برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق سفیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ’’طاقتور حلقے‘‘ اُنھیں ’’غدار‘‘ اور واشنگٹن کا خدمتگار‘‘ قراردے چکے ہیں اس لیے اب انھیں ڈر ہے کہ اپنے مرحوم دوست پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کی طرح وہ بھی قتل کردیے جائیں گے۔

اخبار لکھتا ہے کہ حسین حقانی کا اشارہ بظاہرپاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی، کی طرف تھا۔

حکومت پاکستان نے حسین حقانی سے گزشتہ سال کے آخر میں ان الزامات کے بعد استعفیٰ لے لیا گیا تھا کہ پاکستانی فوجی قیادت کی برطرفی کے سلسلے میں امریکی حکام کو بھیجا گیا ’میمو‘ یا مراسلہ اُن کی تخلیق تھی اور سابق امریکی ایڈمرل مائیک ملن تک اسے پہنچانے کی ذمہ داری بھی اُنھوں نے ہی پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت منصور اعجازکو سونپی تھی۔

اس اسکینڈل کا انکشاف کرنے والے بھی خود منصور اعجاز ہیں جن کے بقول صدر آصف علی زرداری کی حمایت والے اس ’میمو‘ میں امریکی مدد کے بدلے پاکستان میں ایک نئی فوجی قیادت کی تعیناتی اور طالبان سمیت مغرب مخالف عسکری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے فوجی یونٹ کو ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

حسین حقانی نے ان الزامات کی تردید کی لیکن انھیں وطن واپس بلا کر سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اس وقت سپریم کورٹ کاتشکیل دیا گیا ایک عدالتی کمیشن ’میمو‘ اسکینڈل کی تحقیقات کررہا ہے۔ سابق سفیر کے ناقدین نے اُن پر امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ملک کی خودمختاری اور سلامتی کو داؤ پر لگانے کا الزام لگاتے ہیں۔

سابق سفیر نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ اُن کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور صدر زرداری کی حکومت کے خلاف ’’نفسیاتی جنگ‘‘ کا حصہ ہیں جو ’’بعض طاقتور حلقوں‘‘ نے شروع کررکھی ہے۔

اُن کے بقول وزیر اعظم ہاؤس میں قیام کے دوران سخت حفاظتی اقدامات میں وہ تین مرتبہ باہر جا چکے ہیں۔ ’’میں وزیر اعظم (گیلانی) کا مہمان ہوں جن کے ساتھ میری طویل سیاسی وابستگی ہے۔ میرے خلاف جو ہسٹیریا پیدا کیا گیا ہے اُس کے پیش نظر سلامتی کے خدشات عیاں ہیں اور وزیر اعظم ہاؤس میں قیام ہی میرے لیے سب سے محفوظ راستہ ہے۔‘‘

حسین حقانی نے کہا کہ ان کے دوست سلمان تاثیر کو اپنے ہی ایک محافظ نے ہلاک کردیا تھا کیونکہ میڈیا کے ذریعے اُسے معلوم ہوگیا تھا کہ گورنر کو مرتد قرار دیا جاچکا ہے۔ مجھے بھی میڈیا میں غدار اور امریکہ کا خوشامدی قرار دیا جارہاہے جس کی واضح طور پر بعض طاقتور حلقوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جبکہ مجھ پر قانونی طور پر کوئی فرد جرم بھی عائد نہیں کی گئی ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ اپنے وکیل سے ملنے سپریم کورٹ اور دوسری مرتبہ ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے علاوہ ایک مرتبہ وہ دانت میں درد کی شکایت کے بعد ڈینٹسٹ کو ملنے گئے تھے لیکن ان تنیوں مواقع پر اُنھیں غیر معمولی تحفظ فراہم کیا گیا۔

’’اگر ضرورت پڑی تو (میمو) کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے بھی پیش ہوں گا۔ لیکن میں خود بھی یہ سب نہیں چاہتا اور آزادی کےساتھ ریستوران یا پھر اپنے خاندان والوں سے ملنے کا خواہشمند ہوں۔‘‘ حسین حقانی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم گیلانی اور صدر زرداری نے اُن کی بھرپور حمایت اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

XS
SM
MD
LG