رسائی کے لنکس

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ بول چینل نے سکیورٹی کلیئرنس کے لیے مروجہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ان دنوں جس خبر کا بہت چرچا ہے وہ ہے جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث سوفٹ ویئر کمپنی "ایگزیکٹ" اور اس کے خلاف ہونے والی تحقیقات۔

اس کمپنی کے کراچی اور اسلام آباد میں واقع دفاتر پر وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف آئی اے" نے چھاپے مار کر وہاں سے سادہ جعلی ڈگریوں کی ایک بڑی مقدار کے علاوہ کمپیوٹرز بھی قبضے میں لے لیے ہیں جب کہ اس کمپنی کے سربراہ شعیب احمد شیخ سمیت دیگر چھ عہدیداروں کو گرفتار کر کے ان سے بھی تفتیش جاری ہے۔

اس کمپنی کے بقول وہ "بول" کے نام سے پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا نیٹ ورک لے کر آ رہی لیکن اس اسکینڈل نے چینل کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

ایک روز قبل ہی وفاقی وزارت اطلاعات نے ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کو خط لکھ کر بول چینل کی نشریات کو آن ایئر جانے سے اس وقت تک روکنے کا کہا تھا جب تک ایگزیکٹ کمپنی سے متعلق جاری تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں آجاتا۔

اس چینل نے اپنی آزمائشی نشریات تو شروع کی تھیں اور اس کے زیر حراست سربراہ شعیب شیخ نے اعلان کیا تھا کہ چینل یکم رمضان سے باقاعدہ طور پر اپنی نشریات کا آغاز کرے گا۔

اس چینل کے شروع ہونے سے قبل پاکستانی نجی ٹی وی چینلز میں کام کرنے والے کئی نامور اور سینیئر صحافیوں نے اس میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ان میں سے چند جعلی ڈگریوں کے اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد چینل سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔

بول چینل میں لگ بھگ دو ہزار ملازمین ہیں جن میں ایک بڑی تعداد پیشہ ور صحافیوں اور اسی شعبے سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کی ہے۔

کراچی کے علاوہ اسلام آباد میں بھی اس چینل کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں اور ان کے بقول اس چینل کو مبینہ طور پر یکطرفہ کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں بھی بول چینل سے وابستہ افراد کے علاوہ صحافتی برادری کی ایک قابل ذکر تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں شریک سینیئر صحافی مشتاق منہاس کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی جب کسی طرح مقتدر حلقوں کی طرف سے آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی تو پوری صحافی برادری نے مل کو اس کے خلاف آواز بلند کی اور اس بار بھی کسی طرح کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔

"ہم بحیثیت صحافی برادری بول کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ یہ 2200 ورکرز کا معاملہ ہے، آزادی اظہار کا معاملہ ہے۔"

نیشنل پریس کلب کے صدر شہریار خان نے کہا کہ وزارت اطلاعات کی طرف سے پیمرا کو لکھا جانے والا خط انتہائی غلط اقدام ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرے۔

"یہ ظلم کی جو ابتدا ہوئی ہے اس کے خلاف پورے ملک کے صحافی اور میڈیا ورکرز متحد ہیں، بول کی نشریات روکنے کی حکومت نے جو بھونڈے انداز میں کوشش کی ہے اسے ہم قبول نہیں کرتے اور اس ہدایت کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔"

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ بول چینل نے سکیورٹی کلیئرنس کے لیے مروجہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا جب کہ ایگزیکٹ کمپنی سے متعلق ہونے والے تحقیقات مکمل طور پر غیرجانبدارانہ اور شفاف انداز میں کی جائیں گی کیونکہ اس اسکینڈل سے ملک کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG