رسائی کے لنکس

’ایل او سی‘ پر اپنی مدد آپ کے تحت تعلیمی اداروں کی تعمیر

  • روشن مغل

ان علاقوں میں کنٹرول لائن کے چکوٹھی سیکٹر کا سرحدی گاﺅں پاھل بھی شامل ہے، جہاں سرکاری ہائی اسکول میں تعلیم تو جاری ہے لیکن وہاں ایک عارضی شیلٹر کے نیچے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’لائن آف کنٹرول‘ کے قریب واقع کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آٹھ اکتوبر 2005ء کو آنے والے جہاں زلزلے میں تباہ ہونے والے اسکولوں کی تعمیر اب تک شروع نہیں ہو سکی۔

ان علاقوں میں کنٹرول لائن کے چکوٹھی سیکٹر کا سرحدی گاﺅں پاھل بھی شامل ہے، جہاں سرکاری ہائی اسکول میں تعلیم تو جاری ہے لیکن وہاں ایک عارضی شیلٹر کے نیچے۔

ٹین کی چھت پر مشتمل یہ ’شیلٹر‘ اس اسکول کے دو سابق طالب علموں نے چھ لاکھ روپے کی مالیت سے بنوایا تھا، جن میں اڑھائی سو کے قریب طالب علم، تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ گرمی کے موسم میں شیلٹر گرم ہو جانے کے باعث اُنھیں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے مورچوں کے سامنے درختوں کے نیچے تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے۔

ادارے کے صدر معلم لیاقت علی نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ ہمارا اسکول کنٹرول لائن پر واقع ہے۔ لیکن ہمارے پاس نہ اسکو ل کی عمارت ہے اور نہ ہی مورچہ کہ کسی ہنگامی صورت حال میں طلبہ اور اساتذہ پناہ لیں سکیں۔

معلم لیاقت علی

معلم لیاقت علی

پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ اکتوبر 2005ء میں آنے والے زلزلے کو گیارہ برس مکمل ہونے کے بعد بھی متاثرہ علاقوں کی بحالی و تعمیر نو کے منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔

حکام کے مطابق زلزلے سے متاثرہ اضلاع میں اڑھائی ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن اب تک نصف سے بھی کم اسکولوں کی تعمیر مکمل کی جا سکی ہے اور فنڈز کی کمی کے باعث زیر تعمیر سات سو اٹھاسی اسکولوں کی تعمیر کا کام سست روی کا شکار ہے۔

جس کی وجہ سے ہزاروں بچے کھلے آسمان تلے یا خیموں اور شیلٹروں میں علم حاصل کر نے پر مجبور ہیں۔

پاکستانی کشمیر میں بحالی و تعمیر نو کے ادارے سیراء کے میڈیا آفیسر عبدالوحید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے زلزلے سے متاثرہ اضلاع میں تعلیمی اداروں کی عدم تعمیر کے باعث ڈیڑھ لاکھ بچے کھلے آسمان تلے یا خیموں اور شیلٹروں میں تعلیم حاصل کر نے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے بتایا کی زیر تعمیر اور مجوزہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے چالیس ارب روپے درکار ہیں۔

فائر بندی لائن سے متصل پاھل کا علاقہ پاکستانی کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر کا آبائی حلقہ انتخاب بھی ہے۔

XS
SM
MD
LG