رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر: سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں کی اپ گریڈ یشن بحال کر دی


پاکستانی کشمیر کی سپریم کورٹ کی عمارت۔ فائل

گذشتہ برس پاکستانی کشمیر میں قائم ہونے والی مسلم لیگ نون کی حکومت نے مذکورہ تعلیمی اداروں کی اپ گریڈ یشن کو منسوخ کر دیا تھا جسے پیپلز پارٹی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

روشن مغل

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی عدالت عظمٰی نے سینکڑوں تعلیمی اداروں کا درجہ بڑھانے کے سابقہ حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جسے مسلم لیگ نون کی نئی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری سال میں 386 تعلیمی اداروں کو اگلے درجے میں ترقی دی گئی تھی جسے اس وقت کی حزب مخالف جماعت مسلم لیگ نواز نے عدالت میں چیلنج کیا تھا اور عدلیہ کی طرف سے اپ گریڈ یشن کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا۔

گذشتہ برس پاکستانی کشمیر میں قائم ہونے والی مسلم لیگ نون کی حکومت نے مذکورہ تعلیمی اداروں کی اپ گریڈ یشن کو منسوخ کر دیا تھا جسے پیپلز پارٹی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ مذکورہ تعلیمی اداروں کی اپ گریڈ یشن بحال رکھ سکتی ہے یا اسے منسوخ کر سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کےخلاف پاکستانی کشمیر کی سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ تین رکنی فل بنچ نے منگل کے روز اپنے فیصلے میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے تعلیمی پیکیج تحت اپ گریڈ کیے گئے تعلیمی اداروں کے درجے کو بحال رکھنے کا حکم دیا۔

عدالت عظمٰی کے فیصلے کے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے سابق وزیر خزانہ اور پیپلز پارٹی پاکستانی کشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری لطیف اکبر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔پی پی پی حکومت کے وزیر تعلیم اور پارٹی کے سینیر راہنما میاں عبدالوحید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے اس اقدام سے پانچ ہزار سے زائد طالب علموں کی تعلیم متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس قانون ساز اسمبلی کے پاس کردہ قانون کو ختم کر نے کا اختیار نہیں ہے ۔

تاہم ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس عدالت عظمٰی میں نظر ثانی کے لیے اپیل دائر کر نے کا اختیار ہے ۔

مسلم لیگ نون موقف ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے تعلیمی پیکیج انتخابي اور سیاسی فوائد حاصل کر نے کے لئے دیا گیا اور جب کہ تعلیمی اداروں میں عملے کی کمی کو پوری کرنے کی ضرورت تھی نہ کہ انہیں اپ گریڈ کرنا۔

XS
SM
MD
LG