رسائی کے لنکس

نوازشریف کا خطاب، اپوزیشن مکمل مطمئن نہیں


حزب مخالف کی سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ پاکستان میں توقع کی جارہی تھی کہ نواز شریف اپنے خطاب میں بھارتی کشمیر میں جاری صورت حال کے خلاف سخت موقف اخیتار کریں گے تاہم ان کے بقول انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب پر پاکستانی قانون سازوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نواز شریف نے بدھ کو نیویارک میں اقوم متحدہ کی جنرل اسبملی کے سالانہ اجلاس سے ایک ایسے وقت خطاب کیا جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس سے دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں۔

جولائی کے اوائل میں ایک کشمیری علیحدگی پسند کمانڈر برہانی وانی کی بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھارتی کشمیر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے جن میں اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

اس پر پاکستان کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور گزشتہ روز اقوام متحدہ میں نواز شریف کے خطاب کا زیادہ تر محور بھارتی کشمیر کی صورت حال ہی رہا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی امن کے لیے کشمیر کے مسئلے کا حل ضروری ہے۔

پاکستان کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میںکہا کہ پاکستان میں توقع کی جا رہی تھی کہ نواز شریف اپنے خطاب میں بھارتی کشمیر میں جاری صورت حال کے خلاف سخت موقف اخیتار کریں گے تاہم ان کے بقول انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

"وزیر اعظم (نواز شریف) کا کل کا جو خطاب تھا جہاں تک کشمیر کا معاملہ ہے یقیناً انہوں نے بات کی لیکن بہر الحال جو پاکستانی عوام کی توقعات تھیں کہ وزیراعظم صاحب ایک صرف لکھی ہوئی تقریر نہیں پڑھیں گے بلکہ جو آجکل حالات چل رہے ہیں ان کے بارے میں پاکستان پر جس طرح یہ اثر انداز ہو رہے ہیں اس کے بارے میں بات کریں گے اور جس طرح بلوچستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو پکڑا گیا اس کے بارے میں بات کریں گے لیکن خطاب میں انہوں نے (وزیراعظم) نرم لہجہ اختیار کیا"۔

تاہم پاکستان کی حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی رانا محمد افضل اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "کشمیر ہمارے لیے اہم ہے اور یہ ایک انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔۔۔ جہاں تک انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے یہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے اور اس انسانی مسئلے کے بارے میں انہوں نے اپنی تقریر میں خاصہ وقت دیا" ۔

پاکستان کے حزب مخالف کی ایک جماعت تحریک انصاف کے سینٹر جان کینتھ ولیمز نے بظاہر وزیراعظم کے خطاب سے مطمئن ہیں۔

" جب آپ دنیا سے مخاطب ہورہے ہوں تو انہوں نے ایک درست لہجہ اختیار کیا ہے ۔۔۔ میرے خیال میں اس موقع پر کسی پڑوسی کے ساتھ سختی سے پیش آنا مناسب نہیں انہوں نے جو کہنا چاہتے تھے وہ کہہ دیا"۔

نواز شریف نے اپنے خطاب میں بھارت کو غیر مشروط مذاکرات کی پیش کش بھی کی۔

XS
SM
MD
LG