رسائی کے لنکس

امریکی افواج کے انخلا کے منصوبے میں تبدیلی خوش آئند ہے: پاکستانی قانون ساز


پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چئیرمین مشاہد حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے یہ فیصلہ اہم ہے۔

پاکستان میں قانون سازوں نے امریکہ کی طرف سے افغانستان میں 2015ء کے اختتام تک وہاں اپنے 9,800 فوجی رکھنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اس سے قبل اعلان کردہ منصوبے کے تحت 2015ء کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کا انخلا جاری رہنا تھا اور اس سال کے اختتام تک وہاں ساڑھے پانچ ہزار امریکی فوجی رہ جانے تھے۔

لیکن افغان حکومت کی درخواست پر امریکی فوجیوں کے انخلاء کے عمل کو سست کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چئیرمین مشاہد حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے یہ فیصلہ اہم ہے۔

’’افغان صدر نے کہا کہ حالات موزوں نہیں اور وہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہاں خلا پیدا نا ہو۔‘‘

عوامی نیشنل پارٹی کے ایک مرکزی رہنما افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کو بھی اس بات کا ادارک ہے کہ افغانستان میں کسی طرح کا خلا پیدا نا ہونے دیا جائے۔

’’مستحکم افغانستان اس خطے کی ضرورت ہے اور دنیا کی ضرورت ہے۔‘‘

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے رکن رانا محمد افضل نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔

’’ہم افغانستان کی حکومت کے اس مطالبے کی حمایت کرتے ہیں اور خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہاں مزید استحکام تک امریکہ موجود رہے گا۔‘‘

افغانستان سے فوجیوں کے انخلاء کے اس منصوبے میں تبدیلی کا اعلان واشنگٹن میں صدر براک اوباما نے اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی کے ساتھ منگل کو ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا۔

صدر اشرف غنی اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں منصب صدارت سنبھالنے کے ایک روز بعد ہی اشرف غنی نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کی منظوری دے دی تھی جس کے تحت 2014ء کے بعد بھی وہاں امریکی فوجی رہ سکیں گے۔

اشرف غنی کے پیش رو حامد کرزئی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد افغانستان کے امریکہ سے تعلقات میں تناؤ بھی دیکھا گیا۔

دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے بعد نیٹو کے 12 ہزار فوجیوں میں سے 9,800 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔

صدر اشرف غنی نے امریکی فوجوں کے انخلاء کے عمل میں تبدیلی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرف سے افغان فورسز کی تربیت بہت اہم ہے۔

XS
SM
MD
LG