رسائی کے لنکس

سپین: شدت پسندی کے فروغ کے الزام میں ایک پاکستانی گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

منگل کو ہونے والی گرفتاری سمیت سپین میں اس برس شدت پسندی کے الزام میں 24 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

سپین کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پولیس نے بارسیلونا میں منگل کو ایک پاکستانی شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے شدت پسندی کو فروغ دیا۔

اس شخص پر الزام ہے کہ وہ شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروہوں خصوصاً داعش کی کارروائیوں کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر فروغ دیتا رہا ہے۔

منگل کو ہونے والی گرفتاری سمیت سپین میں اس برس شدت پسندی کے الزام میں 24 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو اٹلی کے شہر میلان کی ایک عدالت نے پاکستان اور تیونس کے ایک، ایک شہری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اٹلی پر دہشت گرد حملے کرنے کی دھمکی دینے پر چھ، چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اپنی سزا پوری ہونے پر ان دونوں کو اپنے اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔

ان دونوں کو جولائی 2015 میں شمالی اٹلی میں بریشیا کے مقام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ بنانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا جس پر انہوں نے میلان کے تاریخی ڈومو چرچ اور روم کے کلوسیئم پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔

اطالوی، فرانسیسی اور عربی زبان میں لکھی گئی ان دھمکیوں کے ساتھ ان مقامات کی تصاویر بھی لگائی گئی تھیں۔

اگرچہ گرفتاری کے وقت تحقیق کاروں نے کہا تھا کہ اس دھمکی پر عمل کے کوئی شواہد نہیں ملے، مگر اس کے باوجود انہیں سزا سنائی گئی۔

ان دونوں نے انٹرنیٹ سے ایک کتابچہ ڈاؤن لوڈ کیا تھا جس میں دیسی ساختہ بم بنانے، اسلحہ اٹھانے اور انٹرنیٹ پر خفیہ طریقے سے سرگرمی کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG