رسائی کے لنکس

پاکستانی آموں کی پہلی کھیپ امریکہ پہنچ گئی


پاکستانی آموں کی پہلی کھیپ امریکہ پہنچ گئی

پاکستانی آموں کی پہلی کھیپ امریکہ پہنچ گئی

پاکستانی آموں کی پیداوار سے وابستہ افراد کے لیےایک نئی مارکیٹ کھولنے کی خاطر امریکہ اور پاکستان نے مل کرکام کیا اور امریکی صارفین کی پسند کی ایک اضافی چیز فراہم کردی گئی ہے: امریکی محکمہٴ زراعت

امریکی محکمہٴ زراعت (یو ایس ڈی اے) نے جمعے کوامریکہ اور پاکستان کے درمیان آموں کی تجارت کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ آموں کی پہلی کھیپ امریکی براعظم پہنچ گئی ہے‘۔

محکمہٴ زراعت کے وزیر ٹام وِلسیک نے بتایا ہے کہ پاکستانی آموں کی پیداوار سےوابستہ افراد کے لیےایک نئی مارکیٹ کھولنےکی خاطرامریکہ اور پاکستان نے مل کرکام کیا اور امریکی صارفین کی پسند کی ایک اضافی چیز فراہم کردی گئی ہے۔

اُن کے بقول، ’اریڈئیشن کے عمل‘سے گزارنے کے ذریعے محکمہٴ زراعت کے لیےیہ ممکن ہوا کہ پاکستان سے آموں کی محفوظ درآمد کی اجازت دی جائے، جب کہ امریکی زراعت کومضر کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا گیا ہے۔

’یوایس ڈی اے ‘ کی ’ اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ انسپیکشن سروس‘ (اے پی ایچ آئی ایس) نے اگست 2010ء میں پاکستان سے تازہ آموں کی تجارتی بنیادوں پر درآمد کی اجازت دی تھی۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پاکستان میں آموں کو لگنے والے کیڑے امریکہ نہ پہنچ پائیں،یہ لازم ہے کہ ادارے کی طرف سے تصدیق شدہ تنصیب پر آموں کو محفوظ بنانے والے اریڈئیشن کےمرحلوں سے گزارا جائے۔

امریکہ آنے سے قبل یا کھیپ کی امریکہ آمد کے بعدآمو ں کو اریڈئیشن کے طریقہٴ کار سے گزارنا ہوگا۔

مزید برآں، امریکی محکمہٴ زراعت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ہردرآمدی کھیپ کے ساتھ پاکستان کی ’نیشنل پلانٹ پراٹیکشن آرگنائزیشن‘ کی طرف سےاضافی تصدیق نامہ ہوگا، جِس میں اِس بات کی توثیق کی جائے کہ کھیپ کا معائنہ کرنے پر اِسے آموں کے بلیک بیکٹیریل اسپاٹ کے اتفاقی عنصر سے پاک پایا گیا ہے جیسے Xanthomonas campestris pv. mangiferaeindicae کا معاملہ ہے۔امریکہ پہنچنے کی پہلی منزل پر فروٹ کی کھیپ کا معائنہ کیا جائے گا۔

سنہ 2002میں اِس بات کی منظوری دی گئی تھی کہ امریکہ داخل ہونے والے سارے فروٹ اور سبزیوں کو ارئڈئیشن کے عمل سے گزارا جائے گا تاکہ امریکہ پہنچنے والی درآمدی کھیپ ہر قسم کے کیڑوں سے پاک ہو۔ اریڈئیشن کا طریقہ پیسٹ کنٹرول کے دیگر ذریعوں کا متبادل ہے، جیسے’ فیومیگیشن، کولڈ اینڈ ہیٹ ٹریٹمینٹ‘ کے طریقے۔

پاکستانی آموں کی پہلی کھیپ امریکہ پہنچ گئی

پاکستانی آموں کی پہلی کھیپ امریکہ پہنچ گئی

یاد رہے کہ پاکستان کے باغبانی اور برآمدات کے ادارے (پی ایچ ڈی ای سی ) نے وزارت تجارت کے تعاون سے امریکہ کے لیے آموں کی برآمدات شروع کرنے کا اعلان جولائی کے پہلے ہفتے میں کیا تھا، جِس کی پہلی کھیپ 27جولائی کو امریکہ روانہ کی گئی تھی۔ ادارے نے گزشتہ سال بھی امریکہ برآمد کے لیے تیاری کرلی تھی لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔

پاکستانی وزارتِ تجارت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایک طویل عرصےسے کوشش کررہا تھا کہ امریکی منڈی میں ’اپنے اعلیٰ معیار کے آم بھجوا سکے‘۔

اِس مقصد کے لیے علی ترین فارم کے ’چونسہ‘ نسل کے آم منتخب کیے گئے۔امریکہ بھجوائے جانے والی پہلی کھیپ تقریباً 1200کلو گرام کی ہے۔ یہ کھیپ ایسے کنٹینرز کے ذریعے بھجوائی گئی ہے جِس میں درجہ حرارت کا مناسب خیال رکھا گیا ہے۔


پاکستانی حکومت کے سات جولائی کے ایک اعلان میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کے شہر شکاگو میں پاکستانی قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی یہ کھیپ وصول کرنے کے بعد دیگر پاکستانی قونصل خانوں کو بھجوائیں گے۔ پاکستان کے تجارت کے وزیر مخدوم امین فہیم نے اِسے پاکستان کی زرعی برآمدات میں ایک اہم قدم قراردیتے ہوئے اِس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ‘ اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے پاکستانی آم جلد ہی امریکہ میں مقبولیت حاصل کرلیں گے‘۔

XS
SM
MD
LG