رسائی کے لنکس

جیو کی نشریات کچھ دیر کے لیے بند رہنے کے بعد بحال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ادارے کے مطابق ’پاک سیٹ‘ نامی سیٹلائیٹ جسے جیو ٹیلی ویژن اپنی نشریات کے لیے استعمال کر رہا تھا اُس کی طرف سے ادارے کو بتایا گیا کہ اُس کی نشریات کسی بھی وقت بند کی جا سکتی ہیں۔

پاکستان میں نجی ٹیلی ویژن چینل 'جیو' کی نشریات یکم اپریل کو کچھ دیر کے لیے بند رہنے کے بعد دوبارہ بحال ہو گئی ہیں۔

ادارے کے مطابق ’پاک سیٹ‘ نامی سیٹلائیٹ جسے جیو ٹیلی ویژن اپنی نشریات کے لیے استعمال کر رہا تھا اُس کی طرف سے ادارے کو بتایا گیا کہ اُس کی نشریات کسی بھی وقت بند کی جا سکتی ہیں۔

جیو کے مطابق طویل مذاکرات کے بعد 25 مارچ کو ہی ’پاک سیٹ‘ سے اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ جیو اپنی نشریات کے لیے یکم اپریل سے ’پاک سیٹ‘ کی سٹیلائیٹ فریکیوئنسی استعمال کرے گا اور جیو نیٹ ورک کے مطابق اس بارے میں اخبارات میں اشتہارات بھی دیئے تاکہ ’کیبل آپریٹر‘ اس بارے میں ضروری انتظامات کر سکیں۔

جیو کی ویب سائیٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ’پاک سیٹ‘ پاکستان کا واحد کمرشل سیٹلائیٹ ہے اور ادارے نے غیر ملکی سیٹلائیٹ کو چھوڑ کر پاکستانی سیٹلائیٹ کے استعمال کو ترجیح دی۔

’پاک سیٹ‘ سے متعدد بار اس سلسلے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ادارے کے ترجمان کی طرف سے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

جیو کے تکنیکی شعبے کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اب مسئلہ حل ہو چکا ہے تاہم وہ ’پاک سیٹ‘ سے رابطے ہیں کہ اس معاملے کی وضاحت کریں تاکہ جیو نیٹ ورک کوئی متبادل انتظام کر سکے۔

جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’’جیو پاک سیٹ پر بند ہو گیا لیکن ان لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں بند نہیں ہوا جو ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں‘‘۔

اُن کی اس ٹویٹ کے بعد یہ خبریں پھیلنا شروع ہوئیں کہ جیو پر بندش لگا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ صورت حال ایسے وقت بھی پیدا ہوئی جب روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں سیاسی اور فوجی حکومت کے تعلقات میں تناؤ سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جیو نیٹ ورک بھی جنگ گروپ ہی کا ہے۔

گزشتہ اتوار کو لاہور میں خودکش دھماکے کے بعد فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا ہے جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ پنجاب میں آپریشن شروع کرنے پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت میں اختلافات ہیں۔

تاہم حکمران مسلم لیگ (ن) کے بعض عہدیداروں کی طرف سے اس تاثر کی نفی کی جاتی رہی۔

XS
SM
MD
LG