رسائی کے لنکس

تارکین وطن سے متعلق معاہدے کے بعد پاکستانیوں کا مستقبل غیر واضح


پاکستانی تارکین وطن یونان میں ایک کیمپ میں اپنے موبائل فون چارج کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستانی تارکین وطن یونان میں ایک کیمپ میں اپنے موبائل فون چارج کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان ایسے افراد کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے جن کی دستاویزات مکمل نہیں۔ اس کے باعث کچھ تارکین وطن کے لیے ملک واپس پہنچنا بھی کٹھن ہو گا۔

رضاکاروں کی طرف سے چلائے جانے والے ایک کیمپ میں یونان کے جزیرے لیسبوس پہنچنے والے ہزاروں تارکین وطن عارضی پناہ لے چکے ہیں مگر اب یہ کیمپ بند ہونے کے قریب ہے۔

یورپ اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ایک نئے معاہدے کے تحت یونان پہنچنے والے تمام افراد کو اب قریب ہی واقع ایک حراستی مرکز میں رکھا جائے گا۔

کیمپ میں موجود آخری افراد پاکستانی ہیں جو عموماً پناہ کے اہل نہیں ہوتے۔

ایک 36 سالہ تارک وطن توکل حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمیں امید ہے کہ یونانی حکومت ہمیں پناہ دے گی تاکہ ہم یہاں قانونی طور پر رہ سکیں کیونکہ ہم غیر قانونی طور پر یہاں نہیں رہنا چاہتے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم امید کرتے ہیں، ہماری یہ خواہش ہے کہ یونانی حکومت ہمارے اوہر رحم اور ترس کھائے کیونکہ ہم نے سمندر میں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالیں۔ ہم واپس ترکی نہیں جانا چاہتے۔ ہم یونان میں رہنا چاہتے ہیں۔‘‘

تاہم رحم کی ایسی اپیلیں انہیں پناہ دلانے کے لیے ناکافی ہیں۔ پیر کو 150 پاکستانی اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کو لیسبوس جزیرے سے پولیس حفاظت میں یونانی سرزمین لے جایا گیا تاکہ ان کی درخواستوں پر کارروائی کی جا سکے۔

انہیں اس وقت تک حراست میں رکھا جائے گا جب تک ان کی درخواستوں پر کارروائی مکمل نہیں کر لی جاتی۔

اگر ان کی درخواستیں قبول نہ ہوئیں تو انہیں اپنے ملک واپس بھیجنے کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔ مگر پاکستان ایسے افراد کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے جن کی دستاویزات مکمل نہیں۔ اس کے باعث کچھ تارکین وطن کے لیے ملک واپس پہنچنا بھی اتنا ہی کٹھن اور طویل ہو گا جتنا یہاں آنا۔

یورپ میں موجود پناہ گزینوں میں آئندہ آنے والے وقت کے بارے میں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی فیلڈ ڈائریکٹر مشیل ٹیلارو نے کہا کہ غیر یقینی کی یہ کیفیت ذہنی بیماری میں بدل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفر کے دوران ایسے لوگوں کو اپنی صحت برقرار رکھنے میں مدد دینا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ بہت تکلیف میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG