رسائی کے لنکس

یورپ میں داخلے کے منتظر پاکستانی تارکین وطن


جرمنی اور فرانس جیسے یورپی ملکوں تک پہنچنے کے خواہشمندوں کے علاوہ ان میں کچھ تارکین وطن ایسے بھی تھے جو ترکی میں ہی رہ کر کام کرنا چاہتے تھے۔

ترکی کو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے یورپ کا داخلی راستہ تصور کیا جاتا ہے جسے بہت سے لوگ، جن میں اکثریت غیر قانونی تارکین وطن کی ہوتی ہے، بہتر معاشی مستقبل کے حصول کے لیے یورپی ملکوں تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ایک طرف دنیا جہاں شام کے تارکین وطن کے معاملے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں وہیں ترکی میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں شام سے زیادہ پاکستانی تارکین وطن موجود ہیں۔

بودروم میں موجود ان تارکین وطن میں سے بعض نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ وہ یہاں سے سمندر کے راستے یونان جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ان افراد میں کئی ایسے بھی ہیں جو یورپ میں بہتر تعلیمی مواقع کی تلاش میں ہیں تو کئی بہتر معاشی مستقبل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے علی محمد نے بتایا کہ "ہمیں ملک میں بہت سے مسائل ہیں۔ ہم یورپ میں بہتر مستقبل کے لیے جا رہے ہیں، بہت سے لڑکے بہتر تعلیم اور بہتر زندگی کے لیے جا رہے ہیں لیکن ان کے پاس درکار رقم نہیں ہے۔"

جرمنی اور فرانس جیسے یورپی ملکوں تک پہنچنے کے خواہشمندوں کے علاوہ ان میں کچھ تارکین وطن ایسے بھی تھے جو ترکی میں ہی رہ کر کام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن کچھ ہی ماہ میں انھیں اندازہ ہو گیا کہ یہاں انھیں وہ خوشحال مستقبل نہیں مل سکتا جس کی انھیں امید تھی۔

علی محمد کہتے ہیں کہ ترکی کے لوگ اور یہ ملک اچھا ہے لیکن "میں یہاں اتنے پیسے نہیں کما سکتا۔ میرے پانچ بچے ہیں اور مجھے اٹلی یا یونان جیسے کسی ملک جانا پڑے گا تاکہ میں اپنے خاندان کے لیے کچھ کر سکوں"۔

یہاں موجود تارکین وطن ان ایجنٹس کی طرف سے کسی خبر کے منتظر ہیں جنہوں نے انھیں سمندر کے راستے یونان لے جانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس سفر کا فی کس اندازاً خرچ 1200 امریکی ڈالر ہے۔

سمندر کے راستے سفر میں حالیہ مہینوں میں سیکڑوں تارکین وطن جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس کے بعد ترکی نے متعدد حفاظتی انتظامات بھی کیے ہیں لیکن پھر بھی یہ سفر خطرے سے مبرا نہیں۔

بہت سے تارکین وطن کے ساتھ غیر یقینی مستقبل کے خطرناک سفر میں چھوٹے بچے بھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG