رسائی کے لنکس

پاکستان کی خاتون کوہ پیما

  • نیلوفر مغل

پاکستان کی خاتون کوہ پیما

پاکستان کی خاتون کوہ پیما

وادی ہنزہ کے علاقے شمشال کےپہاڑوں اور گلیشئر میں پلے بڑھے ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود کوہ پیمائی ان کا جنون ہے۔

گیارہ دسمبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل ماونٹین ڈے منایا گیا ۔پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جو کوہ پیمائی کے لیے دنیا بھر میں مہم جوئی سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے اور اس کی وجہ دنیا کے مشہور پہاڑی سلسلوں کا پاکستان میں موجود ہونا ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان کے شمالی صوبہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نئی شہرت حاصل کر رہے ہیں ۔ ثمینہ بیگ اور مرزا علی دونوں بہن بھائی ہیں اور کوہ پیمائی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وادی ہنزہ کے علاقے شمشال کےپہاڑوں اور گلیشئر میں پلے بڑھے ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود کوہ پیمائی ان کا جنون ہے۔

ثمینہ بیگ کی عمر اس وقت 20 سال ہے اور وہ فسٹ ائیر کی طالبہ ہے۔وہ پاکستان کی پہلی نوجوان کوہ پیماہ ہے جس نے شمشال میں پہلے کبھی نہ سر ہونے والی چاشکن کی چوٹی سر کی ہے ۔اس چوٹی کی اونچائی6400میٹر ہے۔

کوہ پیمائی ایک مشکل ترین مہم ہے جس کے لیے باقاعدہ جسمانی اور ذہنی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ مشکل ساز وسامان کی مدد سے میلوں کا سفر طےکرنا پڑتا ہے مگر ثمینہ نے تمام مشکل حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا اور چوٹی سر کرنے میں کامیاب ہوئی۔ثمینہ بیگ کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پاکستانی خواتین جہاں ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کر رہی ہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیاں بھی سر کر سکتی ہیں۔ وہ کہتی ہے اگر چہ مختلف فورم پر خواتین کوہ پیماوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے مگر ان کے لیے کوئی مناسب ٹریننگ سینٹر اور وسائل دستیا ب نہیں۔

ان کے خاندان کے بعض افراد بھی کوہ پیماہ رہ چکے ہیں اور سب کی دیکھا دیکھی انہیں بھی بچپن سے کوہ پیمائی کا شوق پیدا ہوا۔تاہم باقاعدہ تربیت اپنے بھائی مرزا علی سے حاصل کی جنہوں ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔

مرزا علی اس وقت 29 برس کے ہیں وہ پاکستان کے سب سے کم عمر کوہ پیماہ ہیں اور ایک گائیڈاور انسٹرکٹر کی حیثیت سے بھی کام کررہے ہیں۔انہوں نے گذشتہ کئی برسوں سے متعدد چوٹیاں سر کی ہیں۔انہوں نے سب سے پہلے 6050 میٹر بلند چوٹی Mingligh سر کی جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔

مرزا علی کہتے ہیں کہ پاکستان میں نوجوانوں کے لیے کوہ پیمائی کے مواقع تو موجود ہیں مگر یوتھ ایڈونچر زیرو ہے اور اس میں خواتین نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہن بھائی دونوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ ملک میں یوتھ ایڈونچر کو فروغ دیں اور نوجوان خاص طور پر خواتین اس شعبے میں آئیں ۔اس کے لیے انہوں نے پاکستان یوتھ آوٹ ریچ پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد کوہ پیمائی اور ایڈونچر سے متعلق شعور اور آگہی کو فروغ دینا ہے۔ان کی خواہش ہے کہ وہ دنیا کی تمام 8000 میٹر بلند چوٹیوں کو سر کریں جن کی کل تعداد 14ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کوہ پیماوں کے لیے زبردست کشش رکھتا ہے لیکن اس ایڈونچر سپورٹس کے لیے متعدد مقامات کی موجودگی کے باوجود کوہ پیمائی یا مہم جوئی پر زیادہ توجہ نہیں دی جارہی ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ سپورٹس مہنگا اور مشکل ہے مگر مہم جوئی نام بھی تو مشکلیں سر کرنے کا ہے ۔لیکن مسلہ در اصل اس ایڈونچر کو فروغ دینے کے لیے باضابطہ تربیت اور وسائل کا دستیاب نہ ہونا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ غیر ملکی سیاحوں کے مقابلے میں بہت کم ہی ان پہاڑی چوٹیوں کا رخ کرتے ہیں جو عالمی پہچان رکھتی ہیں ۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پہاڑوں کے بلند ترین سلسلے ہیں ۔نیپال اور چین بھی ایسے ممالک کی صف میں ہیں۔ کے ٹو یعنی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پاکستان میں واقع ہے۔اس وقت دنیا میں 14 ایسے پہاڑ ہیں جن کی بلندی 8000 میٹر سے زیادہ ہے ۔ کے ٹو سمیت پاکستان میں ایسے پانچ پہاڑ ہیں ۔قراقرم اور ہمالیہ انہیں دو بڑے پہاڑی سلسلوں میں شامل ہیں جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی سیاح کوہ پیمائی کے لیے آتے ہیں۔

پاکستان یوتھ آوٹ ریچ نے قراقرم ایکسپیڈیشن کے تعاون سے 2011ء میں قراقرم جنڈر ایکوالٹی ایکسپیڈیشن کا اہتمام کیا ۔ اس پروگرام کے تحت پہلے سے نہ سر ہونے والی چوٹی کو سر کرنا تھا۔جسے بعد میں کوہ بروبر کا نام دیا گیا ۔ اس پروگرام کامقصد پاکستان میں جنڈر ایکولٹی کو فروغ دینا تھا۔

XS
SM
MD
LG