رسائی کے لنکس

انسداد پولیو مہم کو 2015ء میں نمایاں کامیابی ملی: سینیٹر عائشہ رضا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر کی جانے والی مربوط کوششوں کے علاوہ ملک میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے بعد ان علاقوں تک بھی انسداد پولیو ٹیموں کی رسائی ممکن ہوئی جہاں اس سے پہلے یہ مہم چلانا ممکن نہیں تھا۔

پاکستان میں انسداد پولیو سیل کی سربراہ عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ سال 2015 میں ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی اور گزشتہ سال صرف لگ بھگ 51 بچے پولیو سے متاثر ہوئے جب کہ 2014 میں یہ تعداد 306 تھی۔

انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر کی جانے والی مربوط کوششوں کے علاوہ ملک میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے بعد ان علاقوں تک بھی انسداد پولیو ٹیموں کی رسائی ممکن ہوئی جہاں اس سے پہلے یہ مہم چلانا ممکن نہیں تھا۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں سینیٹر عائشہ رضا نے کہا کہ اب بھی چند ایک چیلنج ہیں جن میں مستقل ایک جگہ قیام نہ کرنے والے بچوں تک رسائی کو ممکن بنانا، ملک کے کچھ علاقوں میں خواتین پولیو رضاکاروں کی کمی اور پاکستان اور افغانستان میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل و حرکت کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

’’90 فیصد بچوں تک ہماری رسائی ہو رہی ہے اور اگر چند فیصد جو رہ گئے ہیں ان تک ہم کیوں نہیں پہنچ رہے ہیں وہ کس وجہ سے نہیں ہو رہی ہے کیا وہ سکیورٹی کی وجوہات ہیں کیا وہاں ہماری ٹیمیں نہیں پہنچ سکتی ہیں کیا وہ قطرے پینے سے انکاری ہیں، چاہیے جو وجہ بھی ہو ان وجوہات کو الگ کر کے ان کی تہہ تک پہنچنے کی ہم نے کوشش کی ہے۔‘‘

اںہوں نے کہا کہ ملک کے بعض علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے والی خواتین رضاکاروں کی کمی کا بھی سامنا ہے ۔

’’ہمیں بلوچستان جیسے علاقوں میں خواتین رضاکاروں کی کمی کا سامنا ہے جہاں لوگ گھر گھر نہیں جا سکتے ہیں اور دو سال سے کم عمر کے بچے گھروں میں ماؤں کی گود میں ہوتے ہیں اور گھر کے اندر ان بچوں کو پولیو ویکسین پلوانے کے لیے صرف خواتین ہی جا سکتی ہیں‘‘۔

عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت کا مسئلہ بھی انسداد پولیو مہم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

’’سرحد کے دونوں طرف چمن اور طور خم پر ہماری چیک پوسٹ ہیں وہاں پر (بچوں) کو بہتر ویکسینیشن کریں اور اس کے علاوہ غیر روایتی طریقے سے بھی آمدورفت ہوتی رہتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ جہاں پاکستان پر زور طریقے سے اپنی طرف ویکسین بچوں کو پلوائے وہاں پر ہم افغانستان کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں کہ وہاں بھی ان کے جو متعلقہ حکام ہیں وہ بھی اپنی طرف سے ویکسین پلوانے کے عمل کو موثر بنائیں اور یقینی بنائیں کہ کوئی اس مہم میں نظر انداز نہ ہو‘‘۔

پاکستان دنیا کے دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔ دوسرا ملک افغانستان ہے ۔

عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ وہ پر امید ہے ہیں کہ گزشتہ سال کی طرح 2016ء میں بھی پولیو کے خاتمے کے لیے کوششوں کو اور بھی موثر بنایا جائے گا اور رواں سال مئی کے مہینے تک ملک بھر میں پولیو کے قطرے پلوانے کی پانچ مہمات چلائی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG