رسائی کے لنکس

’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘


منیر نیازی (فائل فوٹو)

منیر نیازی (فائل فوٹو)

منیر نیازی کے ساتھ گزرے وقت کا ذکر کرتے ہوئے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں منیر نیازی کو وہ کچھ نہیں ملا جو وہ چاہتے تھے۔

وعدوں کو نبھانے، کسی کو واپس بلانے، کسی سے ملنے جانے اور پھر غم سے بچا کر حقیقت بتانے میں ہمیشہ دیر کر دینے والے منیر نیازی کو دنیا سے رخصت ہوئے بظاہر دس سال ہی گزرے ہیں لیکن وہ بہت پہلے تصنع، خوشامد اور اخلاقی تنزلی کے شکار معاشرے سے خود کو علیحدہ کر چکے تھے اور ایک عرصہ خیال کی روش پر سانس کی ڈوری تھامے ہلکے ہلکے قدموں سے چلتے رہے۔

بعض لوگوں کے ہاں منیر نیازی یاسیت، اکھڑ پن اور خود ستائشی سے مغلوب شخص سمجھتے جاتے ہیں لیکن شاید ایسے لوگ کلام کی بجائے ان کے حالات کا جائزہ نہیں لیتے جن میں منیر نیازی جیسا عہد ساز شاعر وقت گزار رہا تھا۔

اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا

جاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہنا

منیر نیازی نے اپنا ایک الگ اسلوب اپنایا جو انھیں دیگر ہم عصر شعرا سے ایک الگ مقام پر کھڑا کرتا ہے۔ اشعار میں فارسی اور عربی کے الفاظ سمونے کی بجائے انھوں نے اپنے تخیل کو عام فہم اور معمول کے لفظوں کا جامہ پہنایا۔

1926ء میں غیر منقسم برصغیر کے علاقے ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے منیر نیازی قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہو گئے لیکن یہاں پہنچ کر جن حالات کا انھیں سامنا کرنا پڑا ان کی عکاسی ان کے اس شعر سے ہوتی ہے۔

میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد

پر مجھے اس ملک میں کمزور تک اس نے کیا

آہستہ آہستہ سماجی عدم مساوات اور انسانی قدروں کی بربادی منیر نیازی کی لوگوں سے دوری کی وجہ بنتی گئی اور وہ ایسے ماحول پر اپنی برہمی کا اظہار اشعار کی صورت میں کرنے لگے۔

جو مجھے بھلا دیں گے میں انھیں بھلا دوں گا

سب غرور ان کا میں خاک میں ملا دوں گا

معروف ادیب، دانشور اور اکادمی ادبیات کے سابق چیئرمین فخر زمان کی منیر نیازی سے بہت رفاقت رہی۔

منیر نیازی کے ساتھ گزرے وقت کا ذکر کرتے ہوئے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں منیر نیازی کو وہ کچھ نہیں ملا جو وہ چاہتے تھے۔

"بطور انسان بھی وہ بہت بڑے تھے لیکن اس ملک میں بڑے انسان کے ساتھ جو ہوتا ہے آپ دیکھتے ہی آئے ہیں، بڑے شاعر کے ساتھ جو ہوتا ہے۔ یہاں شاعر کی اہمیت کیا ہے؟ کوئی اہمیت نہیں ہوتی تاوقتیکہ اس کے پیچھے کوئی لابی ہو یا کہیے کہ انجمن ستائش باہمی وغیر یا ٹی وی والے اس کے پیچھے ہوں تو پھر ٹھیک ہے لیکن منیر نیازی ان سب چیزوں سے ماورا ہو کر چیزوں کو لکھتے تھے۔"

فخر زمان کہتے ہیں کہ منیر نیازی زیادہ گھلنے ملنے پر یقین نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی نمود و نمائش پر۔

"وہ فلم لائن میں گئے لیکن وہاں ماحول اتنا خراب تھا کہ ایک دو گانے لکھنے کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔"

فلم کے لیے جو گیت انھوں نے لکھے وہ بھی دیگر فلمی شاعری سے بہت مختلف اسلوب کے تھے اور ان میں بھی منیر نیازی کی اپنی الگ چھاپ نظر آتی ہے۔

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے

اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی کی اردو شاعری جتنی توانا ہے اتنا ہی ان کا پنجابی کلام بھی بلند آہنگ ہے۔ ان کی ایک نظم کے یہ مصرعے تو روز مرہ کا ایک محاورہ بن چکے ہیں۔

کُج انج وی راہواں اوکھیاں سَن

کُج گَل وچ غم دا طوق وی سی

کُج شہر دے لوک وی ظالم سَن

کُج سانوں مرن دا شوق وی سی

اس نابغہ روزگار شاعر کا انتقال 26 دسمبر 2006ء کو ہوا۔

XS
SM
MD
LG