رسائی کے لنکس

وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کے فیصلے کے بعد پاکستان میں سیاست دلچسپ مرحلے سے گزر رہی ہے۔ بظاہر حکمراں اتحاد مضبوط سے مضبوط ترہو رہا ہے جبکہ مہنگائی، دہشت گردی اور لاتعداد عوامی مسائل کی بات کرنے والی اپوزیشن پتے کی مانند ہوا کے رخ پر اڑ رہی ہے۔ موجودہ حالات میں حکومت کا موقف درست ہے یا اپوزیشن کا ؟عوام الجھن کا شکارہے۔

سپریم کورٹ نے گیارہ روز قبل توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کے خلاف فیصلہ دیا۔پیپلزپارٹی نے عوام کو قانونی معاملات میں الجھا دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس سزا سے وزیراعظم نا اہل نہیں ہوئے۔اتحادی جماعتیں بھی پیپلزپارٹی کا بھر پور ساتھ دے رہی ہیں۔ بظاہر اسٹیبلشمنٹ بھی حالت سکون میں ہے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیاہے ۔ ایسی ہی آوازیں پارلیمنٹ کے باہر موجود تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی سنائی دے رہی ہیں۔

کامیاب جلسوں کی سیاست ، مگر کس کے خرچے پر۔۔۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ایوان میں شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی سڑکوں پر آ چکی ہے۔ آئے روز مسلم لیگ ن پنجاب کے مختلف شہروں اور پیپلزپارٹی کے کارکنان دیگر تین صوبوں میں ایک دوسرے کے خلاف جلسے ، جلسوس کرتے نظر آ رہے ہیں اور اس حوالے سے طویل شیڈول بھی دیئے جا رہے ہیں۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ دونوں جماعتیں حکومت میں ہیں اور دونوں انتہائی شاندار اور کامیاب جلسوں کی سیاست کررہی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس کے لیے وسائل کہاں سے آرہے ہیں۔

ملک میں ایوان کے باہر تیسری سیاسی قوت بن کر منظر عام پر آنے والی تحریک انصاف ،پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں سے ناراض نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی تو حکومت میں ہے اس لئے لیکن بظاہر بیانات سے ن لیگ اور اس کی منزل ایک ہی نظر آتی ہے لیکن راہیں جدا جدا۔نواز شریف نے عمران خان کو حکومت مخالف تحریک میں شمولیت کی دعوت دی تو عمران خان نے شرط رکھی کہ پہلے اسمبلیوں سے باہر آ جاوٴ۔

یہاں بھی دلچسپی کا ایک پہلو ہے۔ عمران خان کا موقف ہے کہ 2008 کے انتخابات سے قبل اے پی ڈی ایم نامی جو اتحاد بنا تھا، اس میں ن لیگ نے وعدہ کیا تھاکہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے گی مگر بعد میں لے لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

پیر کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ایڈیٹر اور اینکرز سے ملاقات میں نواز شریف نے اراکین کو مستعفی کرانے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا موقف ہے کہ مستعفی ہونے کا ابھی وقت نہیں آیا۔ جب وقت آئے گا تو مسلم لیگ نون ایک لمحہ ضائع کیے بغیر استعفے دیکر باہر آجائے گی۔مگر ابھی ایسا کر نے سے حکومت کو کھلی چھوٹ مل جائے گی اور جعلی اپوزیشن بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ مسلم لیگ نون کسی صورت بیلٹ کا تقدس مجروح نہیں ہونے دے گی۔

مسلم لیگ ن کے اس فیصلے سے تاثر پایا جاتا ہے اب ن لیگ اور تحریک انصاف آمنے سامنے آ گئے ہیں جس کا فائدہ بھی حکمران اتحاد کو ہو گا تاہم پاکستان کی سیاسی صورتحال کی طرح مبصرین ن لیگ کے فیصلے پر بھی کوئی پیش گوئی کرنے سے گریزاں ہے۔ کچھ حلقے ن لیگ کے فیصلے کو درست قرار رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ن لیگ نے آخری موقع بھی گنوا دیا۔

دوسری جانب غیر یقینی صورتحال سے عوام عجیب ذہنی الجھاوٴ کا شکار ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا پر خبر نامہ کے علاوہ بے نتیجہ ٹاک شوز نے انہیں انتہائی باشعور کر دیا ہے۔ اگر آپ عوام سے یہ سوال پوچھیں کہ کون سی جماعت کا موقف درست ہے ؟ تو جواب ہو گا کہ وہ کسی تیسری قوت کے انتظار میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ادارے انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹیٹیوٹ (آئی آر آئی ) نے اپنے حالیہ سروے میں تحریک انصاف کو مقبول ترین جماعت قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG