رسائی کے لنکس

پاکستانی طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے: ڈیموکریٹ سینیٹرز

  • سنڈی سائین

سینیٹر چارلس شومر

سینیٹر چارلس شومر

واشنگٹن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹروں کے ایک گروپ نے محکمہٴ خارجہ سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔

یہ اپیل نیویارک کے ٹائمز اسکوائر کے مبینہ کار بم دھماکے کی ناکام کوشش کرنے والے فیصل شہزاد کی تربیت اور مالی مدد میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی طالبان کو ملوث قرار دیے جانے کے بعد کی گئی ہے۔

نیو یارک سے ڈیموکریٹک سینیٹر، چارلز شُومر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بیشتر امریکی اِس سے آگاہ ہیں کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ جنگ کر رہا ہے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ یکم مئی کو نیویارک سٹی کے ٹائمز اسکوائر میں کار بم کا دھماکہ کرنے کی کوشش نے امریکیوں کو اِس خطرے کے خلاف چوکنا کر دیا ہے جو پاکستان میں طالبان کے ہم خیال گروہوں کی جانب سے ہے۔

پاکستانی طالبان نے جو تحریک ِ طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے نام سے بھی معروف ہیں، ایک لمبے عرصے سے خود کو سویلینز کی ہلاکتوں اور خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ تاہم، شومر نے کہا کہ اُن کی نظریں امریکی سر زمین پر اپنےاہداف پر بھی لگی ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے کھلم کھلا امریکیوں کو ہلاک کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور گذشتہ ہفتے منظرِ عام پر آنے والی ایک وِڈیو میں اُنھوں نے امریکی سینیٹروں کو اپنا مرکزی ہدف بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

سینیٹر شومراور چار دیگر ڈیموکریٹک سینیٹروں نے ایک خط وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کو بھیجا ہے جِس میں اُن سے کہا گیا ہے کہ انتظامیہ اِس گروپ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم سے تعبیر کرے، جِس کے نتیجے مںا انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کےسلسلے کو تحرک ملے گا۔

کسی تنظیم کو اِس فہرست میں شامل کرنے سے امریکہ کو اُس کے اثاثے منجمدکرنے، اُس کی مالیات کو کاٹ دینے اور تنظیم کی مادی اعانت کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

سینیٹر شومر نے مزید کہا کہ، امریکی محکمہٴ خارجہ کی جانب سے اِس طرح کی نشاندہی پاکستانی طالبان کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا ایک اہم عنصر ہے۔ ‘ لیکن اِس وقت ہم اُسے استعمال نہیں کر رہے۔ میں یہ جان کر ششدر رہ گیا کہ اِس گروپ کو محکمہٴ خارجہ کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا، خاص طور سے ٹائمز اسکوائر میں ہونے والے واقعے کے بعد۔’

اُدھر محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے تصدیق کی ہے کہ محکمہٴ خارجہ پاکستانی طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

کراؤلی کے بقول، ‘ہم پاکستانی طالبان کو اِس میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اِس کے لیے ہمیں ایک طریقہٴ کار سے گزرنا پڑتا ہے اور کوئی بھی گروپ جِس کی اِس طرح تخصیص کی جاتی ہو اُسے لازمی طور پر انتہائی مخصوص قانونی کسوٹی پر پورا اُترنا ہوتا ہے۔ لیکن جو کچھ ہوا ہے اُس کی روشنی میں ہم اِس بات پر غور کر رہے ہیں اور عیاں طور پر تحقیقات سے اِس معلومات کی راہ ہموار ہوگی جو ہمیں بہت زیادہ وضاحت فراہم کر سکتی ہے۔’

اِس وقت 45تنظیمیں غیر ملکی دہشت گرد گروپوں میں شامل ہیں جِن میں القاعدہ، ریئل آئرش ری پبلیکن آرمی اور حماس شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG