رسائی کے لنکس

پشاور میں فائرنگ سے فوج کا لفٹیننٹ کرنل ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے پیر کو ذرائع ابلاغ کے نام بھیجے گئے ایک تحریری بیان میں دعویٰ کیا کہ لفٹیننٹ کرنل طاہر عظیم پر حملہ طالبان جنگجوؤں نے کیا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں فوج کے افسر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔

پولیس کے مطابق لفٹیننٹ کرنل طاہر عظیم کو حیات آباد کے علاقے میں اتوار کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

اُنھیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نا ہو سکے۔

اطلاعات کے مطابق لفٹیننٹ کرنل طاہر عظیم راولپنڈی میں تعینات تھے اور وہ پشاور میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آئے ہوئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے پیر کو ذرائع ابلاغ کے نام بھیجے گئے ایک تحریری بیان میں دعویٰ کیا کہ لفٹیننٹ کرنل طاہر عظیم پر حملہ طالبان جنگجوؤں نے کیا۔

اُدھر صوبہ خیبرپختونخواہ کی ضلع مانسہرہ کے علاقے اوگی میں اتوار کی رات مسلح افراد کی فائرنگ سے فرنٹیئر کور ’ایف سی‘ کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

پولیس کے مطابق مسلح افراد نے ایف سی کے اہلکار پر اُس کے گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔ طالبان نے اس حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے۔

طالبان کے ان دعوؤں کی تصدیق تو نہیں ہو سکی لیکن اس سے قبل بھی وہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور تنصیبات پر ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے آئے ہیں۔

دفاعی اُمور کے ماہر عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ طالبان کی طرف سے اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا کوئی نئی بات نہیں۔

’’ہمیشہ سے ہدف بنا کر قتل کرنا دہشت گردوں کا ایک اہم ہتھیار رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ بنیادوں کے بعد اب (دہشت گرد) سکیورٹی فورسز کو ہدف بنا کر ہلاک کر رہے ہیں اور یا تو ان کے پاس افرادی قوت کم ہے یا شاید بڑے حملے کرنے میں (شدت پسندوں کو) مشکلات کا سامنا ہے تو اس لیے ان کا محور آہستہ آہستہ فرقہ وارانہ کارروائیوں کے بعد سکیورٹی فورسز کو ہدف بنانا ہے۔۔۔۔ اس کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔‘‘

پاکستانی فوج نے ملک کے دو قبائلی علاقوں خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے جب کہ ملک کے شہروں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔​

XS
SM
MD
LG