رسائی کے لنکس

پاکستانی طالبان کی سالانہ رپورٹ میں دعوے حقائق کے منافی ہیں: تجزیہ کار


مردان میں طالبان حملے کے بعد کا ایک منظر (فائل فوٹو)

مردان میں طالبان حملے کے بعد کا ایک منظر (فائل فوٹو)

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تین جنوری سے 26 دسمبر 2015ء کے دوران کی گئی اپنی کارروائیوں کی تفصیلات درج کی ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے 2015ء کے دوران اپنی پرتشدد کارروائیوں سے متعلق سالانہ رپورٹ میں ہدف بنا کر قتل، گھات لگا کر فائرنگ، بم دھماکوں اور خودکش و میزائل حملوں میں 686 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لیکن طالبان کے اعداد و شمار کے بارے میں پاکستانی قانون سازوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسند اپنی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد عموماً بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تین جنوری سے 26 دسمبر 2015ء کے دوران کی گئی اپنی کارروائیوں کی تفصیلات درج کی ہیں۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

29 دسمبر کو یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی، جب ملک میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج نے کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔

اسلام آباد میں قائم ایک غیر سرکاری تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ طالبان کی طرف سے یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ایسے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہوں۔

’’یہ وقتاً فوقتاً اپنی کارروائیوں کو میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہتے ہیں۔۔۔ تو ان کے جتنے بھی دعوے ہیں وہ حقائق سے کافی دور ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ ملک میں طالبان کے ڈھانچے کو بہت حد تک تباہ کیا جا چکا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ طالبان اب بھی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اُنھیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر حاجی عدیل کہتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کم ضرور ہوئی ہے لیکن اُن کے بقول دہشت گرد اب بھی موجود ہیں۔

’’جب تک دہشت گردی فخر کا سبب بنتی رہے گی ۔۔۔ تو دہشت گردی ہوتی رہے گی۔‘‘

طالبان نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ پولیس اور سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا ذکر کیا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

طالبان کی طرف سے اپنے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ستمبر 2014ء میں پشاور میں بڈھ بیر فضائی اڈے پر حملے کے بارے میں طالبان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس میں 247 افراد ہوئے جب کہ سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 29 بتائی گئی تھی۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری کہتے ہیں کہ ملک میں بلاشبہ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

’’(طالبان کے) یہ جو اعداد و شمار ہیں وہ بالکل محضکہ خیز لگتے ہیں۔۔۔۔ بہت سارے واقعات کہ ذمہ داری (شدت پسند) اس لیے قبول کرتے ہیں تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ اب بھی وہ فعال ہیں۔‘‘

پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری آپریشن ضرب عضب میں فوج کے مطابق لگ بھگ 3500 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

ان ہی کارروائیوں کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹیڈیز نے اسی ہفتے جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 48 فیصد تک کمی آئی ہے لیکن تنظیم کے مطابق تحریک طالبان پاکستان ملک میں پرتشدد کارروائیوں میں بدستور سر فہرست ہے۔

XS
SM
MD
LG