رسائی کے لنکس

دبئی کے 'گلوبل ولیج' میں پاکستانی اشیا کی مقبولیت


فائل

فائل

دبئی میں مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ گلوبل ولیج میں رکھی گئی پاکستانی اشیا کی مناسب قیمت پر فراہمی انھیں ملک سے دوری کا احساس ختم کردیتی ہیں

متحدہ عرب امارات، دبئی میں سجنے والے سالانہ 'گلوبل ولیج' میلے میں آئے ہوئے دنیا بھر کے شہریوں میں 'پاکستانی اشیا' نے منفرد مقام حاصل کرلیا ہے۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنےوالے شہری یہاں رکھی ’میڈ ان پاکستان‘ کی خوبصورت اور دیدہ زیب اشیا میں دلچسپی لیتے اور خریدتے ہیں۔ ان اشیا میں پاکستانی گارمنٹس، دستکاری، اور ماربل، چمڑے اور لکڑی کی بنی اشیا خوب مقبول ہورہی ہیں.

پاکستانی تاجر سید شمشاد پچھلے 10 سالوں سے مسلسل گلوبل ولیج میں حصہ لیتے آرہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ'بلوچستان سے اعلی معیار کا ماربل حاصل کیا جاتا ہے۔ مختلف اقسام کے ماربل سے استعمال کی اشیا تیار کی جاتی ہیں جو ملک بھر میں فروخت ہوتی ہیں، جبکہ دبئی سمیت ان اشیا کو بیرون ممالک میں بھی فروخت کیا جاتاے'۔

دبئی کے گلوبل ولیج میں مختلف رنگوں کے ماربل سے تیار کی گئی اشیا میں پھولوں کے گلدان، فوارے، گھڑیاں، پیپرویٹ اور دیگر سجاوٹ کی اشیا کیلئے رکھی گئی ہیں، جنکی قیمت 5 درہم سے 15 ہزار درہم تک ہے۔‘

پاکستان لکڑی کی اشیا میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ گلوبل ولیج میں پاکستان کی لکڑی سے بنی ہوئی دیگر اشیا کا بھی اسٹال موجود ہے۔ لکڑی کے کام سے منسلک پاکستانی، افضل کے مطابق وہ پچھلے سات سالوں سے گلوبل ولیج میں حصہ لے رہے ہیں اور پاکستان کی بنائی ہوئی لکڑی سے خوبصورت فرنیچر، سجاوٹ کی اشیا اور گھروں میں استعمال کی اشیا دبئی لاکر فروخت کر رہے ہیں۔

دبئی کے مشہور انگریزی اخبار 'دی گلف ٹوڈے' کے مطابق، پاکستانی تاجر کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکیوں سمیت دبئی میں بسنے والے پاکستانیوں میں بھی لکڑی کے آئٹمز بہت مشہور ہیں۔ بیرون ممالک سے آئے ہوئے لوگ لکڑی سے بنی چھوٹی اشیا میں زیادہ دلچسہی لے رہے ہیں، جبکہ دبئی کے مکینوں کیلئے گھریلو سجاوٹ کی لکڑی کی اشیا زیادہ خریدی جارہی ہیں۔ لکڑی کی ہاتھ سے بنائی گئی اشیا پاکستان کے مختلف شہروں فیصل آباد، کراچی، چنیوٹ اور لاہور سے لائی جاتی ہیں۔

اسی طرح، اسرار اشرفی پاکستانی خواتین کے لباس فروخت کررہے ہیں۔

اشرفی کہتے ہیں کہ لباس کے حوالے سے مختلف ثقافتی اہمیت اور گاہکوں کی پسند کو مد نظر رکھنا ہڑتا ہے۔ یہ ملبوسات پاکستان کے مختلف شہروں کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے فروخت کیلئے لائےجاتے ہیں۔

ان سمیت، چمڑے سے تیار کی گئی اشیا بھی یہاں خوب شہرت حاصل کر رہی ہیں۔ دبئی میں چمڑے کی اشیا فروخت کرنے والے کاشف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی چمڑے سے بنائی گئی اشیا بھی خوب مقبول ہیں، جسمیں والٹ، بیلٹ، مردانہ و زنانہ جیکٹیں شامل ہیں جو حلال چمڑے سے بنائی گئی ہیں۔ اسلئے، یہ خاص توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ چمڑے کی جیکٹوں کی قیمتیں 150 درہم سے لےکر 800 درہم تک ہے۔ جبکہ، انھیں خریدنے والے گاہک دنیا بھر کے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان جیکٹوں کو خرینےوالے زیادہ تر سائیریا اور لبنان سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سردی زیادہ پڑتی ہے‘۔

دبئی میں مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ گلوبل ولیج میں رکھی گئی مناسب قیمتوں میں پاکستانی اشیا انھیں ملک سے دور رہنے کا احساس ختم کردیتی ہیں۔ اِنھیں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے وطن پاکستان میں ہی ہیں۔

گلوبل ولیج دبئی کا سالانہ تفریحی اور ثقافتی میلہ ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک کی اشیا کو فروخت کیلئے پیش کیا جاتا ہے۔

پچھلے 15 برسوں سے ہر سال لگنے والے اس میلے میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ یہاں ہر ملک کو نا صرف اپنی منفرد ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے، بلکہ اپنے اپنے ملک کی تیار کی گئی مشہور اشیا کو اچھے داموں فروخت کرکے بہترین منافع حاصل کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG