رسائی کے لنکس

امدادی منصوبے: امریکی فورسز کوپاکستانی فوج کے ساتھ کام کی اجازت


اخبار‘ وال اسٹریٹ جرنل ’نے خبر دی ہے کہ امریکہ کی اسپیشل آپریشنز فورسز کو پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر امدادی منصوبوں پر کام کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

جولیان بارنیس نے اپنی رپورٹ میں امریکی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے حوالے سے کہا ہے کہ اِس طرح کی اجازت اُس وقت دی جاتی ہے جب مقامی کمانڈر یہ بتاتے ہیں کہ علاقے میں سلامتی کاخطرہ لاحق نہیں ہے ۔

اسپیشل آپریشنز گروپ کو اجازت ہے کہ حملے کی صورت میں وہ اپنے دفاع میں فائر کھول سکتے ہیں۔

تاہم، عہدے دار نے اِس بات کو واضح کیا کہ اس طرح کے مشترکہ مشن کا مقصد حملے کی کاروائیاں کرنا نہیں ہوتا، اور اکثرو بیشتر امریکی سویلین کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں ایک پاکستانی عہدے دار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی افواج سے یہ کہا ہے کہ وہ نمایاں طور پر سامنے نہ آئیں۔ اُن کے بقول ‘کھلے عام کام کرنے کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، اور یہ کام سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ امریکی فوجوں کے منظر عام پر آنے سےامدادی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جون 2008ء میں امریکی فوجی عہدے داروں نے اعلان کیا تھا کہ 30امریکی فوجی پاکستان میں فوجی تربیت کا کام کریں گے۔ لیکن معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر اس کے آغاز میں چار ماہ کا عرصہ لگ گیا، اور جب کام شروع ہوا تو امریکی فوجیوں کو کلاس کے کمروں اور مراکز تک محدود کر دیا گیا۔ لیکن رفتہ رفتہ مشن میں وسعت کی اجازت دی گئی اوراب ملک میں 120 انسٹرکٹر موجود ہیں، اور چھوٹے پیمانے کے ترقیاتی منصوبوں کے کام کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، جِن کا مقصد قبائلی رہنماؤں کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔

یہ ترقیاتی منصوبے بغاوت کے انسداد کی امریکی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں، جنھیں تربیتی مشنوں کے بعد پاکستانیوں کے حوالے کیا جائے گا۔

امریکی فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج انفرا اسٹرکچر کی مرمت کے منصوبے ، زراعت کے لیے بیجوں کی تقسیم اور شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھر وں کے لیے جنریٹروں کی فراہمی کا کام جاری رکھتے ہیں تو اِس طرح پاکستانی افواج کا اعتماد بحال ہو جائے گا، اور نمایاں طور پر تربیت کے کام کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار کے بقول،ایسا کام کرنے کی ضرورت ہے جو نظر آئے ، جس کی تعریف ہو، اور جس کے لیے نقد پیسے موجود ہوں اور فوج کےتحفظ کے ساتھ ساتھ عام سلامتی یقینی بنائی جائے۔

گذشتہ ماہ، امریکی گانگریس نے امدادی کاموں کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے مالیت کی منظوری دی جِس سے ان غریب قبائلی علاقوں میں تعمیرِ نو کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جہاں غیر ملکی سویلین کارکنوں کا پہنچنا دشوار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے پینٹاگان کو خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی کھلے عام موجودگی سے اس سرحدی علاقے میں،جو شدت پسندوں کی آماجگاہ کے طور پر مشہور ہے اور جہاں سے پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان پر حملے ہوتے ہیں، خیر سگالی کے کاموں کو نقصان پہنچے گا ۔

قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں سے پہلے ہی مقامی آبادی میں امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں، جب کہ میزائل حملوں کی اجازت خود حکومت ِپاکستان نے دی ہے ، ان حملوں کا مقصد انتہا پسندوں کی بیخ کنی کے لیے پاکستانی فوج کی مدد کرنا ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی افواج بھی کاروائیاں کرتی ہے، لیکن وہ اپنے اڈوں سے باہر نکل کر امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ کاروائی پر تیار نہیں ہے، کیونکہ پاکستانی فوج سمجھتی ہے کہ امریکہ کو اپنے ساتھ شریک کرنے سے وہ خود کمزور دکھائی دینے لگے گی۔ ایک پاکستانی عہدے دار کا کہنا ہے کہ فوج کو کسی غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے شدت پسند گروپوں کے خلاف فوجی کاروائیاں تیز کر دی ہیں۔

اگرچہ امریکہ نے پاکستانی کارروائیوں کو سراہا ہے ، تاہم پینٹگان کا کہنا ہے کہ قبائلی زعما کی حمایت حاصل کے لیے اُسے مدد کی ضرورت ہے۔ مشترکہ منصوبوں کی کامیابی کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے لیے ممکن ہوگا کہ جنوبی وزیرستان، وادی سوات اور دیگر سرحدی علاقوں کا کنٹرول جاری رکھ سکیں جہاں فوج نے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا ہے۔

دفاعی عہدے داروں کے مطابق، سارے منصوبوں کی حتمی منظوری اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے پاس ہے۔

XS
SM
MD
LG