رسائی کے لنکس

پاکستان امریکن پبلک افیئر آرگانائزیشن کی طرف سے ایک یوتھ کانفرنس کا انعقاد


فرح پنڈت

فرح پنڈت

امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی اور پاکستانی نوجوان نسل کو امریکی سیاسی اور انتظامی دھارے میں شامل کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک پاکستانی آرگانائزیشن پاکستان امریکن پبلک افیئر نے ایک یوتھ کانفرنس کا انعقاد کیا۔

پاکستانی امریکن نوجوانوں کو کمیونٹی میں فعال بنانے اور انھیں سیاسی ، قانونی اور حکومتی اداروں کے بارے میں آگاہ کرنے کے سلسلے میں ہونے والی اس کانفرنس کا آغاز وہائٹ ہاوس کے ٹور سے ہوا جس کے بعد امریکی پارلیمنٹ میں نماز جمعہ اد کی گئی۔

ڈاکٹر سید سعید۔ ایک ایسی نسل کی تشکیل جو زندگی کے مقصد کو سمجھے اور اللہ کی شکر گزار ہو ۔

جمعے کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے ڈاکٹر سید سعید نے اس کانفرنس کے اغراض اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر سید سعید۔۔آج ہم سب مل کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم یہاں موجود ہیں۔ کیونکہ آپ مسلم امہ کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں ۔ آپ وہ نوجوان ہیں جو اس جمہوری نظام میں پیدا ہوئے ہیں اور اس کا حصہ بننے جارہے ہیں۔ یہ وہ وژن ہے جو ہم اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام ایک ہمہ جہت جمہوری نظام میں پروان چڑھتا ہے۔

پاک پیک کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر عرفان ملک کا کہنا تھا امریکی ریاست میری لینڈ میں قائم کی جانے اس آرگانائزیشن کا مقصد ناصرف پاکستانی بلکہ مسلمان کمیونٹی کو بھی امریکہ میں سیاسی اور انتظامی سطح پر مربوط کرنا ہے۔

عرفان ملک۔ ۔ ۔ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ ایک ایسا مستقبل جو ہم شاید نہیں لیکن وہ ضرور دیکھیں گے ۔ ہم یہاں ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے آئے ہیں، ون ڈے یا ٹی ٹونٹی نہیں۔ کیونکہ اگر ہم ایک اننگ کھیل کر چلے گئے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

عرفان ملک کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے پاکستانی یہاں آکر معاشی طور پر کامیاب ہوئے لیکن اب وقت ہے کہ ہم اس ملک کی پالیسی اور قانون سازی کا حصہ بھی بنیں۔

عرفان ملک۔۔۔۔ ان بچوں کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہان کیپٹل بلڈنگ میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ ان کو یہ احساس ہوا کہ یہ ملک اوپن ہے۔ ریلیجن اور ایتھنک لحاظ سے ، اور اس ملک کی جو پالیسیاں ٹھیک نہیں ہیں انھیں ایک طریقے سے بدلا جا سکتا ہے اور وہ ہے کہ جب ہم بھی اس ٹیبل پر ہوں جہاں یہ بنتی ہیں۔

اس موقعہ پر امریکی حکومتی اور حساس اداروں میں کام کرنے والے مسلمان اور پاکستانی شخصیات نے نوجوانوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔

فرح پنڈت۔۔۔ آپ کا نام فرح ہو یا عزیز، محمد ہو یا فاطمہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ آپ کے پاس یہ قانونی ہے کہ آپ اپنی کمیونٹی کے لیے کام کریں اور آگے بڑھیں۔ یہی چیز ا س ملک کو عظیم بناتی ہے۔

فرح پنڈت امریکی مسلمان کمیونٹی کے لیے امرکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کی خاص مشیر ہیں، انھوں نے نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچے وہ امریکہ میں پیدا نہیں ہوئیں لیکن ان کی محنت اور کمیونٹی کی خدمت کے جذبے نے انھیں اس مقام تک پہنچایا۔

جبکہ امریکہ کے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے سے تعلق رکھنے والیے پاکستانی نژاد امریکی عارف علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل کو سمجھیں اور ان ک حل کے لیے کوششیں کریں ناکہ صرف انکو برا جانیں۔

عارف علی خان۔ ڈاریکٹر پالیسی ڈیپارٹمنٹ ۔

ہارے مسائل ہیں لیکن یہ ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اہم بات یہ ہے کہ ہم ان کا مقابلہ کریں اور ان پر ہونے والی بات چیت کا حصہ بنیں۔

تقریب میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی، سیاسی طور پر متحرک اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرنے والے پاکستانی امریکیوں نے بھی شرکت کی۔بابر محمد ہوم لینڈ سیکیورٹی میں انٹرنشپ کررہے ہیں۔

ایک بات جو میں کہتا ہوں کہ ہم اس ملک کا حصہ ہیں ۔اگرچے ہم میں بہت سے لوگ یہاں پیدا نہیں ہوئے لیکن ہم پاکستان یا انڈیا اور کہیں سے بھی اس ملک میں آئے ہیں، تو ہمیں اس ملک کو اپنا ملک بنانا ہوگا۔

طلبہ نے امریکی ایوان اقتدار اور وہائٹ ہاوس میں دیکھی جانے والی مختلف چیزوں کے بارے میں اپنے جزبات کا اظہار کیا اور بتایا کہ انھیں نا صرف صدر اوباما کو دیکھنے کا موقع ملا بلکہ انھیں ان عمارات میں ( وہائٹ ہاوس اور کیپٹل بلڈنگ ) میں جاکر محسوس ہوا کہ وہ بھی یہاں آسکتے ہیں اور کام کر سکتے ہیں۔

پاک پیک فاونڈیشن کی بورڈ ممبر آمنہ خان کا کہنا تھا کہ اس کے ذریعے ہماری کوشش ہے کہ کمیونٹی کو اکٹھا کریں، انھیں فعال بنائیں تاکہ ہم یہاں مضبوط ہوں ۔ اس طرح ہم نا صرف یہاں بلکہ پاکستان میں بھی اپنے لوگوں کی مدد کرسکیں گے ۔

XS
SM
MD
LG