رسائی کے لنکس

سالانہ مقابلہ مضمون نگاری سال 2014ء کی' سینیئر فاتح 'رانیہ حسین کو گذشتہ ہفتے ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کی ایک ہفتہ جاری رہنے والی تقریبات میں شرکت کرنے کے لیے خصوصی طور برطانیہ مدعو کیا گیا ہے۔

بکنگھم پیلس میں بدھ کے روز 'رائل کامن ویلتھ سوسائٹی' کی سرپرست ملکہ برطانیہ کوئن ایلزبتھ کی جانب سے'کامن ویلتھ مقابلہ مضمون نویسی 'جیتنے والے طلبہ کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا گیا اس تقریب کی میزبانی شہزادی کمیلا پارکر نےکی جنھوں نے سینیئر فاتح کا اعزاز جیتنے والی پاکستانی طالبہ رانیہ حسین کو ایوارڈ سے نوازا ۔

دولت مشترکہ کے سالانہ مقابلہ مضمون نگاری سال 2014ء کی' سینیئر زمرے کی فاتح 'رانیہ حسین کو گذشتہ ہفتے ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کی ایک ہفتہ جاری رہنے والی تقریبات میں شرکت کرنے کے لیے خصوصی طور پر برطانیہ مدعو کیا گیا ہے۔

کامن ویلتھ سوسائٹی کے مطابق، ایوارڈ کی تقریب کا اہتمام بکنگھم پیلس کے تھرون روم میں کیا گیا جہاں ڈچز آف کارنوال کمیلا پارکر نے مقابلہ جیتنے والے طالب علموں کو خوش آمدید کہا اور انعام جیتنے پر مبارکباد پیش کی۔

دنیا کے قدیم اور وسیع پیمانے پر منعقد کیےجانے والے عالمی مقابلہ مضمون نگاری کے لیے رواں برس دولت مشترکہ کے 44 ملکوں کے 400 اسکولوں کے لگ بھگ 10,000 طالب علموں کی جانب سےمضامین موصول ہوئے جن میں سے لاہور کی طالبہ رانیہ حسین کو پاکستان کے کردار کے بارے میں ایک متاثر کن تحریر پیش کرنے پر ججوں کے پینل نے 'سینیئر زمرے' کا فاتح منتخب کیا ۔

اس موقع پر ڈچز آف کارنوال کمیلا پارکر نے سینیئر فاتح رانیہ حسین اور جونیئر فاتح برطانوی طالب علم دس سالہ میکس ڈی سمیت 'جونیئر زمرے' کے رنر اپ لیاہ (کینیڈا ) اور سینیئر رنر اپ سلینا (سنگا پور) میں سرٹیفیکٹ تقسیم کیا اور انعام کے طور پر کامن ویلتھ کا یادگاری قلم بھی پیش کیا ۔

اس پر وقار تقریب کے شرکاء کو اس موقع پر بکنگھم پیلس کی عمارت، زیورات، مجسموں اور آرٹ کے نوادرات کی تاریخ کے حوالے سے شاہی محل کا دورہ کرنے کا موقع بھی حاصل ہوا ۔

لاہور کالج آف آرٹس اینڈ سائنس کی طالبہ رانیہ حسین نے اپنی کامیابی پر تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ،کامیابی کی خبر ان کے لیے قطعی غیر متوقع تھی جسے سننے کے بعد وہ دم بخود رہ گئی تھیں۔

"دولت مشترکہ کے مختلف حصوں کے فاتحین کے ساتھ یہاں میری موجودگی بہت حیرت انگیز محسوس ہو رہی ہے، بکنگم پیلس کا یہ دورہ میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا ۔"

رانیہ حسین نے کامن ویلتھ مقابلہ کے موضوع ' آپ کا ملک دولت مشترکہ ٹیم کے ارکان کو کیا پیشکش کرتا ہے؟ کے سوال کےجواب میں اپنے مضمون میں ایک پاکستانی پھل فروش کی کہانی بیان کی ہے جو انتہائی غریب ہونے کے باوجود اپنے قہقہوں اور خوش مزاجی سے لوگوں کا دل جیتنا جانتا ہے۔

رانیہ کے مطابق "یہ میرے وطن پاکستان کی حقیقی تصویر ہے، کہانی کے مرکزی کردار بزرگ پھل فروش سے لے کر اس سے جڑے سبھی کردار میرے وطن کی سچی ترجمانی کرتے ہیں۔"

ججز نے ان کے مضمون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ، اس سادہ مگر پر اثر کہانی سے پاکستان کے گمبھیر مسائل کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔

کامن ویلتھ کے ڈائریکٹر مائیک لیک نے اس موقع پر کہا کہ ''انعام جیتنے والے نوجوانوں کا تعلق دنیا کے چاروں کونوں سے ہے جنھوں نے مختلف موضوعات پر لکھا لیکن وہ ایک چیز کے لیے پر عزم تھے کہ ان کی آواز کو سنا جائے اور یہی کامن ویلتھ مقابلے کی اصل روح ہے کہ نوجوانوں کی آواز، دولت مشترکہ کے مستقبل کے لیے ان کا نقطہ نظر بہت اہم ہے۔

اس تقریب میں آئندہ برس کے مقابلہ مضمون نگاری کی تھیم کا اعلان بھی کیا گیا جس کا عنوان 'اے ینگ کامن ویلتھ' ہے ۔

اس عنوان کے تحت نوجوان کامن ویلتھ کو مستقبل کے خدشات اور امیدوں کے بارے میں لکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اسکولوں کے طالب علموں کو جونیئر اور سینیئر زمرے میں مضمون ارسال کرنے کے لیے یکم مئی 2015ء کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG