رسائی کے لنکس

ملا اختر منصور کی ہلاکت کی خبر پر پاکستانیوں کا ملاجلا رد عمل


قائداعظم یونیورسٹی میں سیاسیات کے طالب علم رفیع اللہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت افغان طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

پاکستان میں مبصرین اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں ایک ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کے جہاں مثبت اثرات مرتب ہوں گے وہیں اس سے نقصان بھی ہو گا۔

پیر کو امریکہ کے صدر اور اس سے قبل اتوار کو افغان حکام نے تصدیق کی تھی کہ گزشتہ سال منتخب کیے جانے طالبان امیر ملا اختر منصور بلوچستان کے سرحدی علاقے احمد وال میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں سیاسیات کے طالب علم رفیع اللہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت افغان طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

’’اس کے اثرات مثبت بھی ہوں گے اور منفی بھی۔ مثبت اس لحاظ سے اس سے دہشت گردوں کو جھٹکا لگا ہے، جس گروہ کا سربراہ تھا اس کو جھٹکا لگا کہ ان کا اہم لیڈر مارا گیا ہے، اس لیے ان کو ابھی ایک نیا لیڈر چننا ہو گا جس پر ان میں لڑائی بھی ہو سکتی ہے اور مزید دھڑوں میں بٹ سکتے ہیں جیسے ملا عمر کے بعد یہ دھڑوں میں ٹوٹے تھے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’دوسری بات یہ کہ وہ بدلہ تو ضرور لیں گے اس لیے ان کی طرف سے کچھ جوابی کارروائی کا بھی خدشہ ہے۔ ہماری پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مزید سکیورٹی سخت کریں۔‘‘

تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے اس خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ نئے رہنما کے انتخاب تک بہت غیر یقینی کی کیفیت ہو گی۔

’’یہ اس طرح کافی نقصان دہ ہے کہ ایک آدمی کا ایک چینل تھا، ایک (اپنا) ڈھانچا تھا وہ تباہ ہو گیا ہے۔ اور ابھی نیا امیر جو بنتا ہے وہ کون ہوگا، بات چیت پہ آمادہ ہوگا کہ نہیں، امیر ہوگا یا مختلف گروپ ہوں گے (کچھ واضح نہیں)۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’سویت یونین کے خلاف سات گروہ تھے جو کسی ایک امیر پر متفق نہ ہو سکے اور اپنی لڑائی علیحدہ لڑتے رہے اپنے اپنے علاقوں میں۔ تو ابھی بھی وہ صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔‘‘

یاد رہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ملا منصور کو اس لیے ہلاک کیا گیا کیونکہ ان کی قیادت میں طالبان نے افغانستان کی حکومت اور اتحادی فورسز پر حملے کیے اور وہ مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں تھے۔

پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ پر مشتمل ایک چار فریقی گروپ گزشتہ دسمبر کے بعد سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہا تھا مگر ان کی طرف سے مسلسل انکار اور افغانستان میں بڑے حملوں کے بعد امن کوششوں میں ناصرف تعطل پیدا ہوا بلکہ افغانستان نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ طالبان کو مذاکرات میں شرکت سے انکار کرنے والے طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔

امریکہ نے بھی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

چار فریقی گروپ کا پانچواں اجلاس گزشتہ ہفتے ہوا تھا جس میں افغانستان کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے شرکت نہیں کی تھی۔

قائداعظم یونیورسٹی کے ہی ایک اور طالب علم نے اس ہلاکت کا وسیع پس منظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک فرد کو قتل کرنے سے اس کے نظریے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

’’آپ جتنے بھی بندے ماریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک آپ نظریے کو ختم نہ کریں۔ دو چار دن قیادت کا بحران پیدا ہوگا اس کے بعد ایک نیا بندہ نیا چہرہ سامنے آ جائے گا۔‘‘

ملا اختر منصور کو گزشتہ سال جون میں طالبان کے بانی ملا عمر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد افغان طالبان کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG