رسائی کے لنکس

پاکستان کی پہلی فارمولا الیکٹرک ریسنگ کار


بتایا جاتا ہے کہ مکمل طور پر ’میڈ ان پاکستان‘، 275 کلوگرام وزنی یہ ریسنگ کار جو 4.8 سیکنڈز میں 110 کلومیٹر کی رفتار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نے مقابلے میں کوئی ایوارڈ تو نہیں جیتا، لیکن اس کے ڈیزائن اور اس پر آنے والی لاگت نے اس مقابلے کے ججز کو حیران ضرور کیا

لنکن امریکی ریاست نیبراسکا کا دارالحکومت اور تیزی سے ترقی کرتی مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک انڈسٹری کا مالک شہر ہے، جسے سٹار سٹی کہا جاتا ہے۔

اس شہر میں آئے پاکستان کے 19 سٹار نواجوان انجنیئرز ایک خواب کی تعبیر لے کر۔وہ خواب تھا پاکستان کی پہلی فارمولا الیکٹرک ریسنگ کار کو ایک بین القوامی مقابلے میں پزیرائی دلوانا۔

275 کلو گرام وزنی ایک کار، 104 ڈگری فارن ہائیٹ کی گرمی، اور 19 پاکستانی نوجوان انجنئیرز پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یعنی نسٹ میں شعبہ انجنئیرنگ کے ان طلبا کی 16 مہینے کی محنت یہاں ایک نئے چیلنج سے نبرد آزما تھی۔ شدید گرمی اور دنیا کی 120 بہترین ٹیموں کا مقابلہ۔۔۔

لیکن اس مقابلے سے پہلے ہی یہ ٹیم ایک اعزاز اپنے نام کر چکی تھی اور وہ تھا SAE international نامی اس مقابلے میں ناصرف پاکستان بلکے ایشیا سے شامل ہونے والی پہلی ٹیم ہونے کا اعزاز۔۔۔

ڈائریکٹر رابرٹ سیکلر کا کہنا تھا کہ یہ مقابلے ابھرتے ہوئے نوجوان انجنئیرز کی صلاحتیوں کو سامنے لانے کے لیے شروع کیے گئے تھے اور اس سال یہاں 132 ٹیموں نے اپلائی کیا تھا لیکن ہماری لمٹ 100 ٹیموں کی ہے پھر بھی الیکٹرک کارز کو ملا کر آج یہاں 120 ٹیمیں مقابلہ کر رہی ہیں۔

SAE انٹرنیشنل یعنی سوسائٹی آف آٹوموٹیو انجنئیرز کے دنیا بھر کے طلبا کے لیے یہ مقابلے 1979 میں شروع ہوئے ،

لیکن ان میں فارمولا ایکٹرک ریسنگ کار کے مقابلے سال 2005 میں شروع کیے گئےجن کا مقصد آٹوموٹیو انڈسٹری میں ریسرچ کرنا اور نوجوان انجنئیرز کے ہنر کو سامنے لانا تھا۔

پاکستان سے آنے والی یہ ٹیم 23 طلبا پر مشتمل تھی لیکن ان میں سے 19 طلبا اس کار کو لے کر یہاں آسکے۔

عبدل علیم اس ٹیم کے کیپٹن اور اس پراجیکٹ کے بانی ہیں۔ ان کے مطابق مکمل طور پر میڈ ان پاکستان، 275 کلوگرام وزنی یہ ریسنگ کار جو 4.8 سیکنڈز میں 110 کلومیٹر کی رفتار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، اس مقابلے میں کوئی ایوارڈ تو نا جیت پائی لیکن اس کے ڈیزائن اور اس پر آنے والی لاگت نے اس مقابلے کے ججز کو حیران ضرور کردیا۔

مارکو کیٹر اس مقابلے کے جج تھے ، انھوں نے کہا کہ پاکستان کی اس ٹیم کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ پہلی بار یہاں آئے ہیں، بہت سی ٹیمیں پہلے کئی سال میں اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھاتیں جتنی انھوں نے پہلی بار دکھائی ہے۔ میں ان سے متاثر ہوا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگلے سال وہ زیادہ تیاری اور جوش و جذبے سے شامل ہوں گے

اور یہ پاکستان کی پہلی فارمولا الیکٹرک ریسنگ کار کے ان انجنئیرز کے لیے فخر کی بات ہے کہ پہلی بار وہ یہاں تک پہنچے اور سراہے گئے۔طلبا کی بنائی ہوئی ان کارز کو مختلف ٹیسٹ اور مراحل سے گزار جاتا ہے جہاں کئی ٹیمز 5 سال تک صرف ڈیزائن ہی ٹھیک نہیں بنا پاتیں وہاں پہلی بار آنے والی پاکستانی ٹیم کے لیے یہ پذیرائی ایک بڑی کامیابی ہےجبکہ ان نوجوان طلبا کے لیے یہ تجربہ ان کے لیے ان کی زندگی کا سب سے مختلف، مشکل اور تسلی بخش تجربہ رہا ، جس سے ناصرف انھوں نے بہت کچھ سیکھا بلکے ان کی آنکھوں کی چمک اور پرجوش باتوں نے ایک بار ہھر یہ بتادیا کہ ۔۔۔۔۔ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ثاقی۔

مزید اس ویڈیو رپورٹ میں ۔۔

XS
SM
MD
LG